ڈے کیئر سنٹرز — مریم نواز کے ملازمت پیشہ خواتین کیلئے فلاحی اقدامات

 ڈاکٹر جمشید نظر

زمانہ بدل رہا ہے اورزندگی کی رفتار تیز تر ہوتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے معاشرتی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ اب خواتین تعلیم یافتہ ہو رہی ہیں، خودمختار بن رہی ہیں اور زندگی کے مختلف شعبوں میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں ڈے کیئر سنٹرزکی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔قارئین کی معلومات کے لئے بتاتا چلوں کہ ڈے کیئر سنٹر وہ جگہ ہے جہاںملازمت پیشہ خواتین اپنے چھوٹے بچوں کو دفتری اوقات کے دوران چھوڑ سکتی ہیں تاکہ وہ اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں بخوبی انجام دے سکیں۔ یہ سنٹرز بچوں کی دیکھ بھال، ان کی ابتدائی تعلیم، اور سماجی تربیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک اچھے ڈے کیئر سنٹرمیں بچوں کو محفوظ ماحول، مناسب دیکھ بھال، وقت پر نیند اور سیکھنے کے مختلف مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔
ملازمت پیشہ خواتین کی مشکلات کو کم کرنے اور ان کے چھوٹے بچوں کی صحت مند ماحول میں مناسب دیکھ بھال کے لئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے 8 مارچ، عالمی یوم خواتین کے موقع پر ایک اہم اعلان کیا جس کے تحت پنجاب بھر میںچھ سو پچاس نئے جدیدڈے کیئر سنٹرز قائم کیے جائیں گے۔ اس منصوبے کے لیے سال دو ہزار چوبیس سے ستائیس(2024-27) تک ایک ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔پنجاب کے مختلف علاقوں میںپانچ سو(500) ڈے کیئر سنٹرزپہلے سے ہی فنکشنل ہیں لیکن یہ سنٹرز خواتین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی تھے اسی لیے اس منصوبے کو وسعت دی گئی ہے۔ان ڈے کئیر سنٹرز کے قیام سے نہ صرف گیارہ ہزار پانچ سو سے زائدملازمت پیشہ خواتین کے بچوں کو فائدہ پہنچ رہا بلکہ اٹھارہ سو سے زائدملازمتوں کے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں محنت کش خواتین کے لئے ایک خوش آئند اور انقلابی اقدام اٹھاتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نوازنے محنت کش خواتین کے لئے بھی ڈے کئیر سنٹرز بنانے کا اعلان کیا ہے یہ تاریخ ساز اعلان انھوں نے محنت کشوں کے عالمی دن کے موقعے پر کیا ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے اور ڈے کئیر سنٹرز کا مقصد ایسی خواتین کی مدد کرنا ہے جو جو گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ معاشی میدان میں بھی سرگرم عمل ہیں۔وزیراعلیٰ نے فیکٹریوںمیں کام کرنے والی خواتین کی سہولت کے لئے تین سو(300) جدید ڈے کئیر سنٹرز بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ سنٹرز خواتین کو روزگار کی جگہوں میں برقرار رکھنے میں مددگار ہوگا اور ان کے بچوں کی ابتدائی تعلیم و تربیت اور دیکھ بھال میں بھی معاون ثابت ہوگا۔اسی طرح پنجاب بھر کی بار میں خواتین وکلاء کے لئے بھی ڈے کئیر سنٹرز بنائے جارہے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پرصوبے بھر کی جیلوں میں بھی ڈے کئیر سنٹرزبنا ئے جائیں گے۔ پنجاب کے تمام سرکاری اداروں میں ڈے کئیر سنٹرزکا قیام مرحلہ وار عمل میں لایا جارہا ہے جبکہ بیشتر اداروں میں ڈے کئیر سنٹرز کامیابی سے چل رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے حال ہی میں مختلف ڈے کئیر سنٹرز کا دورہ کیا تاکہ وہاں فراہم کی جانے والی سہولتوں کا خود جائزہ لے سکیںاس موقع پر انھوں نے بچوں کے لئے موجود سہولیات،صفائی ستھرائی،حفاظتی اقدامات اور متعلقہ عملے کی تربیت کا تفصیلی معائنہ کیااور بچوں کے لئے مزید بہتر ماحول فراہم کی ہدایا ت جاری کیں۔وزیراعلیٰ پنجاب کے ڈے کئیر سنٹرز کے دورے اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ خواتین اور بچوں کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی خود نگرانی کررہی ہیں ۔ ڈے کئیر سنٹرز کو وسعت دینے کا منصوبہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا فلیگ شپ پروگرام ہے جس پر عمل درآمد کی ذمہ داری ڈائریکٹوریٹ ویمن ڈویلپمنٹ کو دی گئی ہے جس کے تحت پنجاب ڈے کئیر فنڈ سوسائٹی تعلیمی اداروں،ہسپتالوں،محکمہ پولیس اور دیگر سرکاری اداروں میں ڈے کیئر سنٹرز قائم کر کے ملازمت پیشہ خواتین کو سہولت فراہم کرتی ہے تاکہ وہ اپنے بچوں کی بہتر دیکھ بھال کے ساتھ ملکی ترقی میں بھی بھرپور کردار ادا کر سکیں۔
پنجاب ڈے کئیر فنڈ سوسائٹی بورڈ آف گورنرز پر مشتمل ہوتی ہے جس میں بارہ اراکین شامل ہوتے ہیں جبکہ وزیر برائے ویمن ڈویلپمنٹ بطور صدر کے فرائض انجام دیتا ہے۔اسی طرح ویمن ڈیلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کا سیکرٹری بطور نائب صدراور ڈائریکٹربطور سوسائٹی سیکرٹری خدمات انجام دیتا ہے۔ پنجاب ڈے کئیر فنڈ سوسائٹی کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر آپریشنززینب نوید کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ڈے کئیر سنٹرز کے قیام کے لیے ایک سو چھیاسٹھ( 166 )نئی درخواستیں منظور کی گئی ہیں، جن میں سے ایک سو چھپن( 156) تنظیموں کو تقریبا  ایک سو انہتر( 169) ملین روپے سے زائد کے فنڈز جاری کیے جاچکے ہیں۔ڈے کئیر سنٹر کے قیام کے لئے کوئی بھی سرکاری ادارہ پنجاب ڈے کئیر فنڈ سوسائٹی کو درخواست دے سکتا ہے۔ڈے کئیر سنٹرز کے قیام کے لئے تین کیٹیگری بنائی گئیں ہیں جس کے تحت کیٹیگری ون میںپانچ سال تک کی عمر کے تیرہ سے پچیس بچوں کے لئے ڈے کئیر سنٹر کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے جبکہ کیٹیگری ٹو میں سات سے بارہ بچے اور کیٹیگری تھری میں تین سے چھ بچوں کے لئے ڈے کئیر سنٹر بنائے جاسکتے ہیں۔ہر کیٹیگری کے ڈے کئیر سنٹر میں ایک مونٹیسوری (Montessori) ٹیچر اور آیا لازمی ہوگی۔ڈے کئیر سنٹر کی قیام کے لئے میزبان ادارے کی درخواست منظور ہونے کے بعدباہمی سرمایہ کاری کی بنیاد پر مالی معانت کی جاتی ہے جو ایک سال کے لئے ہوتی ہے۔پنجاب ڈے کئیر فنڈ سوسائٹی بچوں کے استعمال کی چیزیں جیسے کہ کھلونے،اسٹیشنری ،فرنیچراور ایک سال کی آپریشنل لاگت فراہم کرتا ہے جس میں ڈے کئیر سنٹرز کے ملازمین کی تنخواہیں بھی شامل ہوتی ہیں۔میزبان ادارہ صرف ایک کمرہ ،ڈے کئیر سنٹر کے قیام کے لئے فراہم کرتا ہے۔پنجاب ڈے کئیر فنڈ سوسائٹی ایک سال کے لئے فنڈ فراہم کرتا ہے اس کے بعد ادارہ قائم شدہ ڈے کئیر سنٹر کو خود چلانے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ڈے کئیر سنٹرز کو جدید بنانے کا عمل بھی جاری ہے جس کے تحت پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ ،ڈے کئیر سنٹرز کی سروسز کو بہتر بنانے اوروویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی آسانی کے لیے آئی ٹی پر مبنی ایک پورٹل تیار کر رہا ہے جس کے ذریعے ادارے اپنی درخواست کو ٹریک کرسکیں گے اس کے علاوہ پورٹل پر صوبے بھر کے ڈے کئیر سنٹرز سے متعلق معلومات بھی فراہم کی جائے گی۔ ڈے کئیر سنٹرز میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جارہے ہیں تاکہ نگرانی اور سیکیورٹی کے نظام کو موثر بنایا جا سکے۔ ان سی سی ٹی وی کیمروں کا لِنک ماوں کو شیئر کیا جائے گا تاکہ ماں اپنے کام کی جگہ پر رہتے ہوئے وقتافوقتا اپنے بچے کی نگرانی کرسکے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں اکثر خواتین کو ملازمت کے ساتھ ساتھ گھریلو ذمہ داریاں بھی نبھانی پڑتی ہیں اس لئے ڈے کیئر سنٹرز ایک سہولت سے بڑھ کر ضرورت بن چکے ہیں۔ملازمت پیشہ خواتین کے لئے ڈے کئیر سنٹر کسی نعمت سے کم نہیں کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ انھیں ڈے کئیر سنٹر کی بدولت اپنے کام پر توجہ دینے میں مددملتی ہے اور یہ اطمینان بھی ہوتا ہے کہ ان کے بچے محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ خواتین نے مریم نواز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماں اور بچے کو ایک ساتھ رکھنے کے لئے پنجاب ویمن ڈویلپمنٹ کے اشتراک سے سرکاری محکموں میں ڈے کئیر سنٹرز کا قیام وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا ایک احسن اقدام ہے جس سے ملازمت پیشہ خواتین اور ان کے بچے مستفید ہورہے ہیں۔