صائمہ ممتاز
مولانا ظفر علی خان فاؤنڈیشن نے ہمیشہ کی طرح اپنا شعار اور وقار برقرار رکھتے ہوئے اس بار بھی ہفتہ وار نشست میں دور دور سے لوگوں کو اپنی طرف کھینچنے پر مجبور کر دیا۔ اس نشست کا موضوع علامہ اقبال رح کا یہ شعر تھا :-
"ہو اگر خود نگرو خود گرو خود گیر خودی"
"یہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکے"
سلطان خان نے اس شعر کو اپنے لہجے کے اتار چڑھاؤ کی مدد سے بہت دلکش پیرایْ میں وضاحت سے بیان کیا۔ انہوں نے شعر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ خود نگر ایک وسیع المعانی لفظ ہے ہے جسکا مطلب خود انحصار ہونا بھی ہے۔ جیسا کہ علامہ اقبال ہی کی مشہور نظم ہے کہ :-
"دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر
خدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کو
سکوت لالہ و گل سے کلام پیدا کر
اٹھا نہ شیشہ گراں فرنگ کے احساں
سفال ہند سے مینا و جام پیدا کر
میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر"
ہمیں فکری سطح پر ، علمی سطح پر ، ذہنی سطح پر بلکہ ہر سطح پر اپنا جہاں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔علامہ اقبال نے خودی کے فلسفے کو بہت سادہ الفاظ میں بیان کیا ہے جس میں تین باتیں اہم ہیں۔۔
سب سے پہلی اطاعت الہی دوسری ضبط نفس اور تیسری نیابت الہی ہے۔۔
اطاعت الہی میں انسان کو یہ نیت کر لینی چاہئے کہ اس کا ہر کام سونا جاگنا ، اٹھنا بیٹھنا ، کھانا پینا یہاں تک کہ اس کا ہر سانس اطاعت الہی کے تحت ہو۔ خود شناسی سے مراد یہ نہیں ہے کہ انسان کے پاس اچھا گھر اچھا بزنس اچھی گاڑی ہو بلکہ اقبال دعوت فکر دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ خود شناسی کا عمل اپنے آپ کی پہچان سے شروع ہوتا ہے۔خدا کی سیارہ زمین پر رہتے ہوئے انسان اپنے آپ کو پہچانے۔
اپنے آپ کو کھینچ کر مصطفیٰ کی کامل اتباع تک لے جاؤ کہ کل کا کل دین یہی ہے۔۔۔خود شناسی پر سلطاں خان نے مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ انسان کی زندگی میں جو خطرات ، مشکلات اور مصائب آتے ہیں وہ انسان کو اور بھی زیادہ طاقتور بنا دیتے ہیں یعنی مسائل سے انسان کے کردار کی تعمیر ہوتی ہے۔ ان مشکلات کے ذرئعے سیفطرت ہمیں بنانا چاہتی ہے اور ہم اکثر گھبرا جاتے ہیں۔اقبال ر ح کہتے ہیں :-
"خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کر دے"
"کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں"
اگر ہم قرآن مجید جو کہ کلام اللہ ہے اس کے ساتھ موت تک انتہائی گہری اور کبھی نہ ختم ہونے والی وابستگی اختیار کر لیں کہ جس میں ہم کلام اللہ کے بغیر جی نہ سکیں تو آپ خود شناس ہو جائیں گے۔اسی طرح خود گر سے مراد اپنے آپ کو تعمیر کرنا ہے۔سارا قرآن اپنی تعمیر کا سلیبس ہے جبکہ حضرت محمد اسکے ماڈل ہیں۔۔قران و حدیث پر عمل پیرا ہونے سے ہی انسان اپنی پہچان بھی کر سکتا ہے اور تعمیر بھی۔۔۔۔۔
"مشرق سے ہو بیزار نہ مغرب سے حزر کر"
"فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر"
حضور کی حدیث ہے کہ :-
حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے۔ جہاں سے ملے۔لے لو۔۔۔۔
ہم ساری کائنات کو فتح کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم خود کو فتح نہیں کرتے۔ہم ساری دنیا پر قابو تو پانا چاہتے ہیں لیکن اپنے نفس پر قابو نہیں پاتے۔اپنے نفس ، اپنی نظر ، اپنی زبان اور اپنی سماعتوں کو اطاعت الہی کے مطابق رکھنا ہی حقیقی معنوں میں خود نگر و خود گر و خود گیر کی کی علامت ہے۔آرٹیفیشل انٹیلیجینس کی اہمیت اپنی جگہ پر لیکن حقیقی انٹیلیجنس سے بھی بے خبر نہیں ہونا چاہئے جو کہ انسان خود ہے۔۔۔۔۔
"خودی کا سر نہاں"
ہر کام میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے اس نے ہمیں بہت سی نعمتوں سے نوازہ ہے۔اللہ اور رسول کی اطاعت میں رومانس پیدا ہو جائے اور اس کی رضا کا راستہ مل جائے تو وہ شخص دنیا کا امیر ترین شخص ہے۔ جب ہمیں اس بات کا احساس ہو جائے کہ ہر مسلے کا حل اللہ کی رضا ، محمد کی اتباع اور دین کا راستہ ہے تو ہم دنیا کی بادشاہت کو ٹھوکر مار دیں گے کیوں کہ ہمیں وہ دولت مل جاتی ہے جس کی کوئی حد ہی نہیں۔
"متاع بے بہا ہے درد و سوز آرزو مندی"
"مقام بندگی دے کر نہ لوں شان خدا وندی"