پی ٹی آئی والے مسلح جدوجہد کی بات کریں گے تو سخت ایکشن کا سامنا کرنا پڑے گا رانا ثنا ء اللہ

 ان کو کہتے سنا ہے  اسلام آباد جائیں گے تو کفن میں یا آزادی لے کر واپس آئیں گے، یہ پتہ نہیں کون سی اور کس سے آزادی لینا چاہتے ہیں؟
 فیض حمید سے متعلق دیگر معاملات پر قیاس آرائی نہیں ہونی چاہیے ، 9 مئی کو سازش یا ادارے میں توڑ پھوڑ کے شواہد آئے تو بہت بڑا چارج ہوگا:مشیر سیاسی امور
اسلام آباد(آئی این پی)وزیر اعظم کے مشیر  برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے خبردار کیا ہے   پی ٹی آئی مسلح جدوجہد کی بات کر رہی ہے جبکہ پارٹی کی صورتحال دیکھ لیں ان میں اس کی صلاحیت نہیں ہے، اگر یہ جمہوری جدوجہد کریں تو اس سے ان کو کچھ مل بھی سکتا ہے اور معاملہ سلجھ بھی سکتا ہے لیکن اگر مسلح جدوجہد کی بات کریں گے تو انہیں قانون اور سخت ایکشن کا ہی سامنا کرنا پڑے گا۔ایک انٹرویو میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان مسلح جدوجہد چاہتے ہیں اور وہ پارٹی اور لوگوں کو بھی یہی کہہ رہے ہیں، ماضی میں سیاسی جماعت 3 بار مسلح جدوجہد کر چکی ہے اور یہ 26 نومبر کو بھی یہی چاہتے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی سیاسی اور پارلیمانی پارٹی ہے مسلح جدوجہد کرنے کی پوزیشن میں نہیں، اگر مسلح جدوجہد کی بات کریں گے تو قانون کے مطابق سلوک ہوگا پھر شکوے کی ضرورت نہیں، مسلح جدوجہد پر یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ایکشن نہ ہو۔وزیر اعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ کوہاٹ جلسے کی تقریر سن لیں تو اندازہ ہو جائے گا کہ یہ غلط ہو سکتے ہیں یا وہ، میں نے ان کو کہتے سنا ہے کہ اسلام آباد جائیں گے تو کفن میں یا آزادی لے کر واپس آئیں گے، یہ پتا نہیں کون سی اور کس سے آزادی لینا چاہتے ہیں؟۔کوئی بھی سیاسی پارٹی مسلح جدوجہد یا اس قسم کا پاگل پن نہیں اپنا سکتی۔