این ایف سی پر بات چیت جاری، اتفاق رائے ہوگیا تو جلد 28 ویں ترمیم آجائیگی رانا ثنا ء اللہ

ایم کیو ایم کے فنڈز کے حوالے سے گلے شکوے ضرور دور کریں گے‘ میگا پروجیکٹس میں جو کوتاہی رہ گئی ہے، اس کا نئے بجٹ میں پوری طرح ازالہ کریں گے
پاکستان دنیا میں امن، اتحاد اور طاقت کی علامت ہے،  افغانستان کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق واضح اور اصولی ہے
لاہور(آئی این پی‘آئی این پی)وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے ساتھ این ایف سی پر بات چیت ہورہی ہے اتفاق رائے ہوگیا تو رواں سال 28ویں ترمیم آجائے گی۔ ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے ساتھ اڑھائی سالہ پاور شیئرنگ فارمولا طے نہیں ہوا، پیپلزپارٹی کے ساتھ این ایف سی پر بات چیت ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاستدان اس لیے طاقتور نہیں کیونکہ رولز آف گیم طے نہیں کرسکے، سیاستدان کا دشمن سیاستدان بنا ہوا ہے، اگر عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کو واضح اکثریت مل جاتی تو وزیراعظم نواز شریف ہوتے۔رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو اپریل 2023 میں بات چیت کی آفر ہوئی تھی، بانی پی ٹی آئی ڈیل کے خواہاں مگر وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بیٹھنا چاہتے ہیں، نوجوان پی ٹی آئی کے ساتھ نہیں مگر حکومت سے ناراض ہیں۔   دریں اثناء اپنے ایک بیان میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ گورنر کی تبدیلی پر ایم کیو ایم نے ناراضگی کا اظہار ضرور کیا ہے، جب اتحادی حکومت بنائی گئی تھی تو سندھ کا گورنر مسلم لیگ ن کے حصے میں آیا تھا، ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا گیا تھا کہ گورنر سندھ ایم کیو ایم کا ہوگا۔رانا ثنا کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے ساتھ ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز کے حوالے سے وعدے ہوئے تھے، ایم کیو ایم کا گورنر کا مطالبہ نہیں تھا، ان کا مطالبہ کراچی کے بعض میگا پروجیکٹس کا تھا۔ رانا ثنا اللہ نے یہ بھی کہا کہ میگا پروجیکٹس میں جو کوتاہی رہ گئی ہے، اس کا نئے بجٹ میں پوری طرح ازالہ کریں گے‘انہوں نے نے کہا  پاکستان دنیا میں امن، اتحاد اور طاقت کی علامت ہے۔ افغانستان کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق واضح اور اصولی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان دوحہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا پابند ہے۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان نہ تو افغانستان کے ساتھ جنگ چاہتا ہے اور نہ ہی اس کے کسی حصے پر قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے