پاکستان تحریکِ انصاف کے رکنِ قومی اسمبلی لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ محمود خان اچکزئی، اختر مینگل اور دیگر کے مشورے پر سول نافرمانی تحریک کی کال مؤخر کی گئی۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت پہلے کہتی تھی کہ بات نہیں کرتے، بات چیت کے لیے کمیٹی بنادی تو اب تمسخر اڑاتے ہیں۔ لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ جب تک سیاسی استحکام نہیں لایا جائے گا، تب تک معاشی استحکام بھی نہیں آ سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ جنہوں نے فارم 47 کے ذریعے انہیں بٹھایا ہے، وہ انہی کی غلامی میں چل رہے ہیں۔ 26 ویں ترمیم کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ انہوں نے عدلیہ کے اوپر کاٹھی پوری ڈال دی ہے۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ عوام کو انصاف کی ذرا بھی امید نظر آ رہی تھی، لیکن من پسند فیصلوں کے ذریعے وہ امیدیں منہدم کر دی گئیں۔ ان کا سوال تھا کہ ان من پسند فیصلوں سے ملک میں استحکام آ جائے گا؟