26 ویں ترمیم میں بھی خلاف ورزی ہوئی، آزاد عدلیہ کے بغیر انصاف ممکن نہیں:لطیف کھوسہ

 26 ویں ترمیم میں بھی خلاف ورزی ہوئی، آزاد عدلیہ کے بغیر انصاف ممکن نہیں:لطیف کھوسہ

اسلام آباد سے پی ٹی آئی رہنما سردار لطیف کھوسہ نے پریس کانفرنس میں آزاد عدلیہ کے بغیر انصاف ممکن نہیں ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ 26 ویں ترمیم میں بھی شب خون مارا گیا ہے اور فسطائیت کے نظام نے ملک کو تباہ کر دیا ہے۔ سردار لطیف کھوسہ نے بتایا کہ کس طرح آدھی رات کو حالات بدل دیے گئے اور قانون میں ترمیم کرکے من پسند ججز کو نظام دیا جا رہا ہے تاکہ فیصلے تحریک انصاف کے خلاف آئیں۔انہوں نے سابق چیف جسٹس عبد الرشید کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم لیاقت علی خان سے ملاقات سے معذرت کی تھی تاکہ کیسز کے نتائج پر اثر انداز نہ ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس قوم کو انصاف ملتا ہے، وہ کبھی شکست نہیں کھاتی۔ 8 فروری 2024 کو عوام نے تحریک انصاف کو مینڈیٹ دیا، مگر ان کا انتخابی نشان چھین لیا گیا۔ اس کے باوجود عوام نے من پسند نمائندوں کو ووٹ دیے۔لطیف کھوسہ نے الزام عائد کیا کہ قانون میں ترمیم کے ذریعے مخصوص نشستوں کا بندوبست کیا گیا ہے، اور آئینی بینچ کی تشکیل میں بھی دھاندلی کی گئی ہے۔

 انہوں نے بتایا کہ جسٹس منصور علی شاہ ایک جید جج ہیں جن کا عالمی مقام ہے، اور ان کا فیصلہ ریورس کروایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مخصوص نشستیں بھی حق کے بغیر بانٹی گئی ہیں، اور جید ججز کو بائی پاس کیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ من پسند فیصلے کروانے کے لیے پیراشوٹر ججز کی تعیناتی کا سلسلہ جاری ہے، اور اسلام آباد ہائی کورٹ پر بھی قبضہ کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ آئینی بینچ کے زیادہ فیصلے سپریم کورٹ کے فیصلوں کو ریورس کرتے ہیں۔ لطیف کھوسہ نے یہ بھی کہا کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کی پارٹی کو ختم کرنے کے لیے سازش کی اور حکومت کے لیے گراونڈ کلیئر کیا، تاکہ وہ اپنی مرضی کے رہنماؤں کو شامل کر سکیں۔