یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ہم این ار او مانگ رہے ہیں، لطیف کھوسہ

یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ہم این ار او مانگ رہے ہیں، لطیف کھوسہ

سردار لطیف کھوسہ، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما، نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ پی ٹی آئی حکومت سے این آر او (نیشنل ری کنسیلی ایشن آرڈیننس) نہیں مانگ رہی۔

 انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے یہ تاثر پیدا کیا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی این آر او کی درخواست کر رہی ہے، جو کہ حقیقت میں درست نہیں ہے۔ لطیف کھوسہ نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی این آر او مانگ رہی ہوتی تو وہ اتنی مشقت اور کرب سے نہ گزرتے اور نہ ہی عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتے۔انہوں نے بنی گالہ میں ہاؤس اریسٹ یا منتقل ہونے کے حوالے سے بھی کہا کہ یہ اقدام بانی پی ٹی آئی، عمران خان کے لئے ناقابل قبول ہے۔ پی ٹی آئی رہنما نے اس بات پر زور دیا کہ تمام بات چیت بانی پی ٹی آئی کی مشاورت کے بغیر نہیں کی جا سکتی، اور تمام مطالبات تحریری شکل میں انہیں فراہم کرنا ضروری ہے۔لطیف کھوسہ نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی ڈیمانڈز بہت واضح ہیں اور ان کے مطابق حکومت سے جو بات چیت ہو رہی ہے، وہ بانی پی ٹی آئی کو رپورٹ کی جانی چاہیے۔ انہوں نے موجودہ حکومت پر بھی تنقید کی، خاص طور پر مہنگائی کے بڑھتے ہوئے مسائل پر، جس کی وجہ سے عوام میں مایوسی اور بے چینی پھیل رہی ہے۔

انہوں نے 29 نومبر کے سانحے کا ذکر کیا اور مطالبہ کیا کہ اس کی تحقیقات کر کے قوم کے سامنے حقیقت لائی جائے، کیونکہ حکومت نے نہتے شہریوں پر گولیاں چلائیں۔ کھوسہ نے کہا کہ اس حکومت کے حوالے سے عالمی سطح پر بھی تنقید ہو رہی ہے، خاص طور پر ملٹری کورٹ کی سزاؤں کے حوالے سے۔مزید یہ کہ، پی ٹی آئی رہنما نے 26 ویں آئینی ترمیم کو بھی غیر قانونی اور غیر اخلاقی قرار دیا اور کہا کہ حکومت نے یہ ترمیم بغیر دو تہائی اکثریت کے پاس کرائی ہے، جس پر انہیں شدید اعتراضات ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی کے پانچ ارکان کو اٹھایا گیا، جو کہ ایک جابرانہ اقدام تھا۔