پاکستان کے مقبول اداکار علی اعجاز کو بچھڑے چھ برس گزر گئے۔
وہ فلم، ریڈیو، ٹی وی اور تھیٹر کے ایک انتہائی کامیاب اور باصلاحیت اداکار تھے، جنہوں نے پاکستانی شوبز کی دنیا میں اپنا ایک خاص مقام بنایا۔ ان کا شمار ان اداکاروں میں ہوتا تھا جنہیں شوبز کے اساثے اور قابل فخر ورثہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔علی اعجاز نے 1961 میں فلم "انسانیت" سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا، لیکن 1979 میں ریلیز ہونے والی فلم "دبئی چلو" نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ 80 کی دہائی میں انہوں نے منور ظریف، ننھا اور رنگیلا جیسے معروف اداکاروں کے ساتھ کام کیا اور اپنی منفرد پہچان بنائی۔ ان کی اداکاری اتنی فطری اور جاندار تھی کہ ناظرین کو یہ گماں بھی نہ ہوتا تھا کہ وہ "اداکاری" کر رہے ہیں۔
علی اعجاز نے 106 فلموں میں اپنی اداکاری کا جادو دکھایا، جن میں 84 پنجابی، 22 اردو اور ایک پشتو فلم شامل ہے۔ ان کی فلموں میں "انسانیت"، "دبئی چلو"، "یملا جٹ"، "سادھو اور شیطان"، "نوکر تے مالک"، "عشق میرا ناں" اور "سسرال چلو" جیسے مشہور نام شامل ہیں۔ انہوں نے ریڈیو پر بھی کئی پروگرام کی میزبانی کی اور ٹی وی ڈراموں کی بے شمار کامیاب اقساط میں اپنی صلاحیتیں دکھائیں۔علی اعجاز نے اپنے کیریئر کے دوران 1993 میں تمغہ حسن کارکردگی حاصل کیا۔ وہ 18 دسمبر 2018 کو 77 سال کی عمر میں فالج اور دل کے عارضے میں مبتلا ہو کر خالق حقیقی سے جاملے۔ ان کی یادیں اور کام پاکستانی شوبز انڈسٹری میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔