سنتوش کمار کا شمار پاکستان فلم انڈسٹری کے سب سے مقبول اور سنہری دور کے اداکاروں میں ہوتا ہے، جنہوں نے اپنی منفرد اداکاری، رومانوی کرداروں اور باوقار شخصیت کے ذریعے لاکھوں دلوں پر راج کیا۔
ان کا اصل نام سید موسیٰ رضا تھا اور وہ 25 دسمبر 1925 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک کشمیری خاندان سے تھا اور انہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز پنجابی فلم ’’بیلی‘‘ سے کیا، جس کے بعد وہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔پاکستان کی فلمی تاریخ میں، سنتوش کمار کا نام ایک اہم مقام رکھتا ہے، کیونکہ انہوں نے نہ صرف اپنے کرداروں سے فلمی دنیا میں ایک منفرد پہچان بنائی بلکہ رومانوی کرداروں کو نئی زندگی بخشی۔ ان کی اداکاری میں ایک خاص نرمی اور وقار تھا، جس نے ناظرین کے دلوں میں خاص جگہ بنائی۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ فلم ’’وعدہ‘‘ ہے، جس میں اداکاری کے اعتراف میں انہیں پاکستان کا پہلا بہترین اداکار کا نگار ایوارڈ بھی ملا۔سنتوش کمار نے اپنے کیریئر میں نواسی سے زائد فلموں میں یادگار کردار ادا کیے، جن میں ’’گھونگھٹ‘‘، ’’رشتہ‘‘، ’’دامن‘‘، ’’سرفروش‘‘ اور ’’قسمت‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے اپنے فن سے نہ صرف اپنی جگہ بنائی بلکہ ان کے کردار آج بھی پاکستانی سینما کے سنہری دور کی یادیں تازہ کرتے ہیں۔
انہوں نے اپنی زندگی میں کئی کامیاب فلموں میں صبیحہ خانم کے ساتھ کام کیا، اور بعد ازاں وہ اپنی شریکِ حیات بھی بن گئے۔ ان کی شخصی اور فنی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔11 جون 1982 کو سنتوش کمار اس دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر ان کا فن اور کردار آج بھی زندہ ہیں۔ ان کی اداکاری، مکالمے اور ان کے کردار پاکستانی سینما کے سنہرے دور کی پہچان سمجھے جاتے ہیں، اور آج بھی سینما گھروں میں ان کی یادیں دل کو مسحور کرتی ہیں۔ سنتوش کمار کا یہ ورثہ پاکستان فلم انڈسٹری کے تاریخ کا ایک سنہری باب ہے جس سے نسل در نسل محبت اور احترام کا رشتہ جُڑا ہوا ہے۔