انسانیت کے عظیم خادم عبدالستار ایدھی کو ہم سے بچھڑے 9 برس بیت گئے

 انسانیت کے عظیم خادم عبدالستار ایدھی کو ہم سے بچھڑے 9 برس بیت گئے

بے لوث خدمت، انسان دوستی اور سادگی کی علامت عبدالستار ایدھی کو دنیا سے رخصت ہوئے آج 9 برس مکمل ہو گئے، لیکن ان کا مشن اور یادیں آج بھی زندہ ہیں۔

 ایدھی صاحب نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کیا اور ایک ایسا ادارہ چھوڑا جو آج بھی ہزاروں ضرورت مندوں کے لیے امید کا چراغ ہے۔

پیدائش اور ابتدائی سفر
عبدالستار ایدھی 28 فروری 1928 کو بھارتی ریاست گجرات کے شہر بانٹوا میں پیدا ہوئے.تقسیمِ ہند کے بعد 1947 میں اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی ہجرت کی.1951 میں ایک چھوٹی سی ڈسپنسری سے خدمت کا آغاز کیا.بعد ازاں ایدھی فاؤنڈیشن قائم کی، جو ملک کا سب سے بڑا فلاحی ادارہ بن گیا.
ایدھی فاؤنڈیشن کی خدمات
ملک بھر میں کلینک، پناہ گاہیں، یتیم خانے، لاوارث بچوں کے مراکز، خواتین کے شیلٹر ہومز.دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس کا قیام.ہر دکھ، ہر موت، ہر مجبوری کے لمحے میں ایدھی کی موجودگی عوام کا اثاثہ بنی.
اعزازات اور عالمی شناخت
1989 میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے نشانِ امتیاز سے نوازا گیا.گنیز ورلڈ ریکارڈ میں سب سے بڑی رضاکارانہ ایمبولینس سروس چلانے پر نام درج.عالمی سطح پر انہیں "مسلمان دنیا کا مدر ٹریسا" اور "زندہ ولی" کہا گیا
آخری سفر
عبدالستار ایدھی 8 جولائی 2016 کو گردوں کے عارضے میں مبتلا ہو کر 88 سال کی عمر میں کراچی میں انتقال کر گئے.انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ ایدھی ولیج میں سپرد خاک کیا گیا
مشن آج بھی جاری
ایدھی صاحب کے اہلِ خانہ اور ایدھی فاؤنڈیشن کے کارکنان ان کا مشن آج بھی اسی جذبے سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہر سال 8 جولائی کو ان کی برسی کے موقع پر ملک بھر میں قرآن خوانی، دعائیہ تقریبات اور خدمت خلق کی سرگرمیاں منعقد کی جاتی ہیں۔عبدالستار ایدھی ایک نام نہیں، ایک سوچ، ایک تحریک اور انسانیت کی روشنی کا استعارہ ہیں۔