فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیل کی جانب سے پیش کی گئی عبوری جنگ بندی کی پیش کش کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
حماس کے سینئر رہنما خلیل الحیا نے واضح کیا کہ تنظیم اب صرف ایک جامع معاہدے کے لیے تیار ہے، جو غزہ میں جنگ کا مکمل خاتمہ، قیدیوں کا تبادلہ اور غزہ کی تعمیر نو پر مبنی ہو۔خلیل الحیا، جو حماس کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ بھی ہیں، نے ایک ٹی وی خطاب میں کہا کہ جزوی معاہدے صرف اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے سیاسی مقاصد کو پورا کرنے کے لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "ہم ایسی کسی حکمت عملی کا حصہ نہیں بنیں گے جو جنگ، تباہی اور بھوک کو جاری رکھنے کا ذریعہ ہو"۔ حماس نے مزید کہا کہ اسرائیل کی پیش کش ایک وقتی جنگ بندی سے زیادہ کچھ نہیں اور اس کا مقصد صرف اسرائیلی وزیراعظم کی سیاسی پوزیشن کو مستحکم کرنا ہے۔ادھر غزہ کے شہری دفاع کے ترجمان محمود باسل نے اطلاع دی کہ اسرائیلی حملوں میں خان یونس کے مشرقی علاقے بنی سہیلہ میں ایک ہی خاندان کے 10 افراد شہید اور کئی زخمی ہوگئے ہیں۔
برکا خاندان کی رہائشگاہ اور آس پاس کے گھروں کو اسرائیلی حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا، جہاں سے لاشوں اور زخمیوں کو نکالا گیا۔اس کے علاوہ، ایک دن قبل اسرائیلی حملوں میں 40 فلسطینیوں کی شہادت کی بھی تصدیق کی گئی تھی۔ غزہ میں مسلسل اسرائیلی بمباری اور حملوں سے شہر کی صورتحال بدتر ہو گئی ہے اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔یہ تمام پیش رفت اس وقت ہو رہی ہے جب عالمی سطح پر اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ بندی کے لیے کوششیں تیز کی جا رہی ہیں، تاہم حماس نے اسرائیل کے ساتھ جزوی جنگ بندی کی کسی بھی پیش کش کو مسترد کرتے ہوئے صرف جامع معاہدے کی حمایت کی ہے جس میں فلسطینیوں کے حقوق کا مکمل تحفظ شامل ہو۔