اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ جنگ بندی کا پہلا مرحلہ آج مکمل

اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ جنگ بندی کا پہلا مرحلہ آج مکمل

غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے پہلے مرحلے کی مدت آج ختم ہو رہی ہے، جبکہ دوسرے مرحلے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔

 قاہرہ میں ہونے والے ان مذاکرات میں اسرائیلی، امریکی اور قطری وفود شریک ہیں، جو معاہدوں پر عمل درآمد اور فلسطین میں انسانی امداد کی فراہمی کے طریقوں پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔پہلے مرحلے کے تحت، حماس نے 33 اسرائیلی یرغمالیوں اور 5 تھائی باشندوں کو رہا کیا، جبکہ اس کے بدلے میں تقریباً 2,000 فلسطینی قیدیوں کو آزاد کیا گیا۔ تاہم، اسرائیلی فوج کے مطابق، اب بھی 59 اسرائیلی یرغمالی غزہ میں موجود ہیں، جن میں سے 24 کے زندہ ہونے کا یقین ہے۔اسرائیلی وزیر دفاع، اسرائیل کاٹز، نے کہا ہے کہ اسرائیل جنگ بندی کے پہلے مرحلے کی توسیع کو ترجیح دے گا، جبکہ حماس فوری طور پر دوسرے مرحلے کا آغاز چاہتی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، انتونیو گوتریس، نے جنگ بندی برقرار رکھنے پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ معاہدہ ہر حال میں قائم رہنا چاہیے۔مصر اور قطر کی ثالثی میں جاری ان مذاکرات کا مقصد جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر اتفاق رائے حاصل کرنا ہے، جس میں مزید یرغمالیوں اور قیدیوں کی رہائی اور غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل کے معاملات شامل ہیں۔

 تاہم، اسرائیل اور حماس کے درمیان بعض کلیدی مسائل پر اختلافات برقرار ہیں، جو مذاکرات کی پیش رفت میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے قاہرہ میں مذاکراتی وفد کی واپسی کے بعد سیکیورٹی حکام اور وزراء کے ساتھ مشاورت کی ہے، کیونکہ جنگ بندی کی موجودہ مدت ختم ہونے کے قریب ہے اور فریقین کے درمیان نئے معاہدے پر تاحال اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔موجودہ صورتحال میں، بین الاقوامی برادری کی نظریں ان مذاکرات پر مرکوز ہیں، تاکہ غزہ میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے راہ ہموار کی جا سکے۔