واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے، جبکہ انہوں نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی بھی امید ظاہر کی ہے۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے اسرائیل-حماس مذاکرات میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریق معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا، "مجھے امید ہے کہ جنگ بندی کا معاہدہ جلد طے پا جائے گا۔ یہ خطے میں امن کی جانب ایک اہم قدم ہوگا۔"
ایران سے جوہری معاہدہ؟
ٹرمپ نے حیران کن طور پر یہ انکشاف بھی کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام کے حوالے سے مذاکرات مثبت سمت میں جا رہے ہیں اور ایک نیا معاہدہ جلد ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ایران کے ساتھ ایک بہتر اور محفوظ معاہدہ کرنے کے امکانات موجود ہیں۔"
معاشی محاذ پر سخت فیصلے
معاشی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے درآمد شدہ اسٹیل پر ٹیرف 50 فیصد تک بڑھانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ سے تجارتی امور پر بات کریں گے اور امید ہے کہ امریکا اور چین کے درمیان اختلافات جلد ختم ہو سکتے ہیں۔ٹرمپ نے کہا، "ٹیرف پر جاری قانونی جنگ میں امریکا کو فتح حاصل ہوگی، کیونکہ ہم اپنی معیشت اور صنعت کا دفاع کر رہے ہیں۔"
تعلیم اور غیر ملکی طلبہ
غیر ملکی طلبا کے معاملے پر ٹرمپ کا لہجہ نسبتاً نرم رہا۔ اگرچہ ہارورڈ یونیورسٹی کے ساتھ ان کی قانونی کشمکش جاری ہے، انہوں نے کہا کہ امریکا میں تعلیم حاصل کرنے والے غیر ملکی طلبا کو ملک بدر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ انہوں نے کہا، "ہم دنیا کے ذہین ترین طلبا کو خوش آمدید کہتے ہیں۔"
غزہ کی صورت حال بدستور کشیدہ
دوسری جانب، غزہ میں حالات اب بھی شدید کشیدہ ہیں۔ فلسطینی تنظیم حماس نے امریکی جنگ بندی تجویز پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کے مسترد ہونے کا اشارہ دیا ہے۔ حماس کا مؤقف ہے کہ واشنگٹن کی تجویز ان کے بنیادی مطالبات، خاص طور پر مکمل جنگ بندی، کو پورا نہیں کرتی۔
اسرائیل کی دھمکی
اسرائیلی حکومت نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حماس نے یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق معاہدے کو تسلیم نہ کیا تو اسے "صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جائے گا"۔ یہ بیان ایک مرتبہ پھر اسرائیلی قیادت کی جارحانہ پالیسی کو ظاہر کرتا ہے، جس سے معاہدے کے امکانات مزید کمزور ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ
ٹرمپ کے بیانات جہاں ایک جانب سفارتی پیش رفت کی امید پیدا کرتے ہیں، وہیں زمینی حقائق اور فریقین کی سخت پوزیشنیں اس امن عمل کو مشکل بناتی ہیں۔ ایران اور چین کے ساتھ معاملات میں بہتری کی بات ضرور کی گئی ہے، لیکن ان پر عمل درآمد تبھی ممکن ہو گا جب مستقل پالیسی تبدیلی اور سنجیدہ مذاکرات کیے جائیں۔