واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا حوثی گروپ کے ساتھ براہِ راست رابطے میں ہے، جبکہ خطے کی صورتحال کے تناظر میں واشنگٹن کی جانب سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر متاثرہ فریقوں سے بھی مسلسل رابطہ کیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جے ڈی وینس نے حوثیوں کے ساتھ امریکی رابطوں کی تصدیق کی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کے درمیان لڑائی میں دوبارہ شدت آئی ہے اور حوثی جنگجو بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں میں اپنی پوزیشن مضبوط کر رہے ہیں۔رائٹرز کے مطابق امریکی حکام نے حال ہی میں عمان کے دارالحکومت مسقط میں حوثی نمائندوں سے ایک خفیہ ملاقات بھی کی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں حوثی نمائندوں نے امریکی بحری جہازوں کو نشانہ نہ بنانے اور 2025 میں طے پانے والی جنگ بندی برقرار رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔رپورٹس کے مطابق ملاقات عمان کی سہولت کاری سے ہوئی، تاہم امریکی محکمہ خارجہ نے اس مخصوص خفیہ ملاقات کی براہِ راست تصدیق نہیں کی۔ امریکی حکام نے خطے میں بحری جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ اور علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے رابطوں کا سلسلہ جاری رہنے کا عندیہ دیا ہے۔دوسری جانب حوثیوں کے سیاسی بیورو نے امریکی انتظامیہ کے ساتھ براہِ راست رابطے کے دعوے کی تردید کی ہے، جس کے باعث خفیہ مذاکرات سے متعلق بعض تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب یمن میں حوثیوں کی پیش قدمی اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کے ساتھ لڑائی میں تیزی آئی ہے۔ حالیہ دنوں میں سعودی عرب نے یمن میں حوثی اہداف پر فضائی حملے کیے جبکہ حوثیوں کی جانب سے سعودی علاقوں پر ڈرون اور میزائل حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔امریکی حوثی رابطوں کی یہ اطلاعات بحیرۂ احمر اور باب المندب میں بحری سلامتی کے حوالے سے بھی اہم سمجھی جا رہی ہیں، کیونکہ خطے میں جاری لڑائی سے عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل کو خطرات لاحق ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔