روسی صدر پیوٹن کا یوکرین کے ساتھ براہ راست بات چیت کا عندیہ

روسی صدر پیوٹن کا یوکرین کے ساتھ براہ راست بات چیت کا عندیہ

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین کے ساتھ براہ راست بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کرتے ہوئے خطے میں جاری جنگ کے خاتمے کی امید کو تازہ کر دیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پیوٹن نے کہا ہے کہ روس یوکرین کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کے لیے تیار ہے تاکہ جنگ بندی اور امن معاہدے کو ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو کسی بھی ایسے اقدام کو خوش آمدید کہے گا جو حقیقی امن کی طرف لے جائے۔روسی صدر کا کہنا تھا، "ہم نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم کسی بھی مجوزہ امن منصوبے پر بات چیت کے لیے تیار ہیں، اور ہم ایسے ہر عمل کو مثبت انداز میں دیکھتے ہیں۔" انہوں نے امید ظاہر کی کہ یوکرین کی حکومت بھی امن کے لیے سنجیدہ قدم اٹھائے گی۔

پیوٹن کے اس بیان کو سفارتی حلقوں میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے، جو جنگ کے طویل عرصے بعد امن کی بحالی کی جانب ایک ممکنہ راستہ فراہم کر سکتا ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی برادری بھی دونوں ممالک پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کریں تاکہ مزید جانی نقصان اور تباہی کو روکا جا سکے۔