عارف علوی کو الاٹ گھر کا کیس، سندھ ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا

عارف علوی کو الاٹ گھر کا کیس، سندھ ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا

سندھ ہائیکورٹ نے سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی کو بطور سابق صدر الاٹ کیے گئے سرکاری گھر کا قبضہ نہ ملنے سے متعلق درخواست پر فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔

سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ صدارتی عہدے کی مدت مکمل ہونے کے بعد انہیں کراچی کے علاقے باتھ آئی لینڈ میں سرکاری رہائش گاہ الاٹ کی گئی تھی، تاہم وہ تاحال اس کا قبضہ حاصل نہیں کرسکے کیونکہ گھر پر سابق سرکاری ملازم ڈاکٹر شہاب امام قابض ہیں۔سابق صدر کے وکیل بیرسٹر علی طاہر نے عدالت کو بتایا کہ عارف علوی کو سابق صدر کی حیثیت سے قانون کے تحت رہائش کا حق حاصل ہے اور عہدہ ختم ہونے کے بعد مذکورہ گھر ان کے لیے الاٹ کیا گیا تھا، لیکن الاٹمنٹ کے باوجود انہیں گھر کا قبضہ نہیں دیا گیا۔دوسری جانب ڈاکٹر شہاب امام نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ انہیں مذکورہ سرکاری رہائش گاہ قانونی طور پر الاٹ کی گئی تھی اور وہ طویل عرصے سے اس کے قانونی حقِ استعمال کا دعویٰ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی رہائش برقرار رکھنے کی درخواست متعلقہ حکام کی جانب سے منظور کی گئی تھی۔

شہاب امام کے مطابق وزارت قانون کی جانب سے انہیں ایک خط بھی جاری کیا گیا ہے جس کے تحت انہیں مقررہ مدت کے بعد گھر خالی کرنا ہوگا۔ انہوں نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ سابق صدر کے پاس پہلے ہی متعدد رہائش گاہیں موجود ہیں، اس لیے انہیں اس مخصوص گھر کی ضرورت نہیں۔اس سے قبل سندھ ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت کے دوران فریقین کو تفصیلی دلائل پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔ عدالت کے ریکارڈ کے مطابق یہ تنازع باتھ آئی لینڈ میں واقع سرکاری گھر نمبر 5-A کی الاٹمنٹ اور اس کے قبضے سے متعلق ہے۔عدالت نے دونوں جانب کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے، جس کا اعلان عدالت کی جانب سے بعد میں کیا جائے گا۔