سابق صدر عارف علوی کے خلاف مقدمے کی درخواست خارج، سیشن عدالت کا فیصلہ محفوظ ہونے کے بعد سنایا گیا

سابق صدر عارف علوی کے خلاف مقدمے کی درخواست خارج، سیشن عدالت کا فیصلہ محفوظ ہونے کے بعد سنایا گیا

ویب ڈیسک: اسلام آباد کی سیشن عدالت نے سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی کے خلاف مبینہ گستاخانہ بیان پر مقدمہ درج کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔

عدالت نے فیصلہ محفوظ کیے جانے کے بعد سنایا۔ایڈیشنل سیشن جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سوشل میڈیا سے متعلقہ معاملات کے لیے حکومت نے باضابطہ طور پر "نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA)" قائم کر رکھی ہے، اس لیے درخواست گزار وہاں رجوع کرے۔

 درخواست گزار کا مؤقف
یہ درخواست شہزادہ عدنان نامی شہری کی جانب سے وکیل محمد مدثر چوہدری کے توسط سے دائر کی گئی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ:"سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے ایک بیان میں گستاخانہ الفاظ استعمال کیے جن کی ویڈیو اس وقت بھی سوشل میڈیا پر موجود ہے۔"درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے متعلقہ پولیس اسٹیشن میں شکایت بھی درج کروائی تھی، مگر تاحال ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔

 عدالت کی رہنمائی
ایڈیشنل سیشن جج نے فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا کہ:سوشل میڈیا پر نشر یا اپ لوڈ ہونے والے کسی بھی قابل اعتراض مواد یا بیان سے متعلق کارروائی کے لیے متعلقہ ادارہ NCCIA ہے۔اگر کسی کو ایسا مواد گستاخانہ یا قابلِ اعتراض لگتا ہے تو وہ قانونی دائرہ اختیار کے تحت NCCIA سے رجوع کر سکتا ہے۔
 پس منظر
یہ معاملہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب ڈاکٹر عارف علوی کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جسے کچھ حلقوں کی جانب سے متنازع اور گستاخانہ الفاظ پر مبنی قرار دیا گیا۔ ویڈیو کے ردعمل میں مختلف شہریوں اور سوشل میڈیا صارفین نے کڑی تنقید کی اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔