سندھ ہائی کورٹ نے سابق صدر پاکستان اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عارف علوی کا ڈینٹل کلینک سیل کرنے کے حوالے سے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔
یہ فیصلہ 3 اکتوبر کو کیے گئے ایس بی سی اے کی کارروائی کے بعد آیا، جب کراچی کی سندھی مسلم کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے بلاک B میں واقع عارف علوی کا ڈینٹل کلینک پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ سیل کر دیا گیا تھا۔تحریری فیصلے میں سندھ ہائی کورٹ نے کہا کہ ایس بی سی اے نے عارف علوی کے ڈینٹل کلینک کو سیل کرنے سے پہلے انہیں نوٹس نہیں دیا اور نہ ہی صفائی کا موقع دیا، جو کہ آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ درخواست گزار کو صفائی کا موقع فراہم کیے بغیر فیصلہ کرنا غیر قانونی تھا اور اس کا کوئی جواز نہیں تھا۔
عدالت نے ایس بی سی اے کو حکم دیا کہ وہ فوری طور پر عارف علوی کے ڈینٹل کلینک کو ڈی سیل کرے۔ اس کے علاوہ، عدالت نے عارف علوی کو ہدایت دی کہ وہ 10 دنوں کے اندر ایس بی سی اے سے پلاٹ کی حیثیت کی تبدیلی کے لیے درخواست دیں، جس پر ایس بی سی اے 45 دنوں کے اندر فیصلہ کرے گا۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایس بی سی اے نے اس بات کی بنیاد پر کلینک کو سیل کیا کہ اس نے ڈینٹل کلینک کے لیے درکار قانونی اجازت نامے یا این او سی (نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ) نہیں حاصل کیا تھا، اور یہ کہ کلینک کو رہائشی علاقے میں قائم کیا گیا تھا، جو کہ ایس بی سی اے کے قوانین کی خلاف ورزی تھی۔
عارف علوی کے وکلاء نے عدالت میں دلائل دیے کہ ایس بی سی اے نے کارروائی کرنے سے قبل انہیں مناسب طریقے سے اطلاع نہیں دی تھی اور نہ ہی انہیں اپنی پوزیشن واضح کرنے کا موقع دیا تھا۔ اس پر عدالت نے ایس بی سی اے کے فیصلے کو منسوخ کرتے ہوئے ایک اور موقع دینے کا حکم دیا۔
سندھ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ عارف علوی کے حق میں آیا ہے اور اس کے بعد ایس بی سی اے کو ان کے کلینک کو فوری طور پر دوبارہ کھولنے کا حکم دیا گیا ہے۔