شام کے چیف آف جنرل اسٹاف کا حمیمیم ایئربیس کا دورہ، روسی فوجی کمانڈروں سے ملاقاتیں

شام کے چیف آف جنرل اسٹاف کا حمیمیم ایئربیس کا دورہ، روسی فوجی کمانڈروں سے ملاقاتیں

شام کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل علی النعسان نے مغربی لطاکیہ میں واقع حمیمیم ایئربیس کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وہاں تعینات روسی فوجی کمانڈروں سے ملاقاتیں کیں۔

شامی وزارت دفاع کے مطابق علی النعسان کے ہمراہ فضائیہ کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل عاصم حواری اور بحریہ کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد السعود بھی موجود تھے۔ دورے کے دوران شامی فوجی حکام نے ایئربیس کا معائنہ کیا اور روسی فوجی کمانڈروں کے ساتھ متعدد اجلاس اور ملاقاتیں کیں۔شامی وزارت دفاع نے ملاقاتوں میں زیر بحث امور کی تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان فوجی رابطوں اور تعاون کے تناظر میں اہم قرار دیا جارہا ہے۔ رواں سال فروری میں بھی شام کے وزیر دفاع میجر جنرل مرہف ابو قصرہ نے دمشق میں روسی نائب وزیر دفاع یونس بیک یفکوروف سے ملاقات کی تھی، جس میں مشترکہ فوجی تعاون اور اسے مزید فروغ دینے کے طریقوں پر بات چیت ہوئی تھی۔یہ دورہ شام اور روس کے درمیان گزشتہ ماہ طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کے بعد ہوا ہے، جس میں شام کے ساحلی علاقوں میں روسی فوجی موجودگی کو نئے انتظامات کے تحت منظم کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔اس مفاہمت کے تحت حمیمیم اور طرطوس میں موجود روسی فوجی تنصیبات کو مشترکہ تربیتی اور اہلیتی مراکز میں تبدیل کرنے کی بات کی گئی ہے، جبکہ شہری نوعیت کی تنصیبات، جن میں حمیمیم ایئرپورٹ اور طرطوس بندرگاہ کا تجارتی حصہ شامل ہے، کو شامی انتظامیہ کے حوالے کرنے کے انتظامات کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب روس نے حالیہ دنوں میں شام کے ساحلی مراکز کے لیے دوبارہ رسد بھی بھیجی ہے۔ رائٹرز کے مطابق روسی بحری اور مال بردار جہازوں کا ایک قافلہ 7 ستمبر کو طرطوس بندرگاہ اور حمیمیم ایئربیس پہنچا، جو اگست میں ماسکو اور دمشق کے نئے فوجی معاہدے کے بعد پہلی ایسی رسد تھی۔تازہ دورے اور روسی حکام سے ملاقاتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئے انتظامات کے باوجود شام اور روس کے درمیان فوجی رابطے برقرار ہیں، تاہم ملاقاتوں کے ایجنڈے اور مستقبل کے انتظامات سے متعلق مزید تفصیلات شامی حکام کی جانب سے جاری نہیں کی گئیں۔