واشنگٹن: ایران کے خلاف جنگ کی حکمت عملی اور کامیابی کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مختلف خطوں میں تعینات فوجی کمانڈروں سے براہِ راست تفصیلی بریفنگ لی، جس میں امریکی ہتھیاروں کے ذخائر اور جنگ کے مستقبل سے متعلق اہم خدشات سامنے آئے۔
امریکی میڈیا کے مطابق جے ڈی وینس نے مشرق وسطیٰ، یورپ اور ایشیا میں موجود امریکی فوجی کمانڈروں سے رابطہ کرکے ایران کے خلاف جنگ کے مقاصد، حکمت عملی، ایرانی مزاحمت اور امریکی فوجی وسائل کی صورتحال پر کھل کر رائے طلب کی۔رپورٹ کے مطابق فوجی کمانڈروں نے بالخصوص امریکی فضائی دفاع میں استعمال ہونے والے پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کے کم ہوتے ذخائر پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ایک موقع پر ایک جنگی تھیٹر میں ان انٹرسیپٹرز کی تعداد 100 سے بھی کم رہ گئی تھی۔فوجی حکام نے بتایا کہ ایران جنگ کے باعث اہم میزائلوں اور دیگر دفاعی ہتھیاروں کے ذخائر بھی تاریخی طور پر کم سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ صورتحال مستقبل میں چین، روس اور شمالی کوریا سمیت دیگر ممکنہ محاذوں پر امریکی دفاعی ضروریات کے حوالے سے بھی تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔
جے ڈی وینس نے کمانڈروں سے یہ بھی جاننے کی کوشش کی کہ امریکی حملوں کے باوجود ایران مزید کتنی مزاحمت کرسکتا ہے اور آبنائے ہرمز سمیت خطے میں اس کی آئندہ حکمت عملی کیا ہوسکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق فوجی کمانڈروں کی بریفنگ کے بعد وینس کو جنگ کی مجموعی حکمت عملی اور اسے کامیابی سے ختم کرنے کے امکانات کے حوالے سے گہری تشویش ہوئی۔ یہ جائزے ٹرمپ انتظامیہ کے عوامی سطح پر سامنے آنے والے نسبتاً پُراعتماد مؤقف سے مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔دوسری جانب امریکی حکام نے ہتھیاروں کے ذخائر میں شدید کمی سے متعلق دعووں کو مسترد کیا ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان کے مطابق امریکی فوج کے پاس اپنی کارروائیوں اور دفاع کے لیے درکار وسائل موجود ہیں۔