آبنائے ہرمز کے قریب امریکا کے لیے خدمات انجام دینے والے ایک بحری جہاز کو ایرانی ڈرونز اور میزائل سے نشانہ بنائے جانے کی اطلاع ہے، جس کے نتیجے میں جہاز پر موجود بعض امریکی اہلکاروں سمیت متعدد افراد معمولی زخمی ہوگئے۔
رپورٹس کے مطابق واقعہ رواں ہفتے پیش آیا، جب امریکی معاہدے کے تحت کام کرنے والے بحری جہاز کو ایرانی حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ حملے میں چار ایرانی ڈرونز اور کم از کم ایک میزائل استعمال کیے گئے۔ ذرائع کے مطابق ایک میزائل یا دیگر پروجیکٹائل جہاز سے ٹکرایا، جس کے نتیجے میں بعض افراد کو معمولی نوعیت کے زخم آئے جبکہ کچھ افراد کو دھویں کے باعث سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ زخمیوں کو خلیجی خطے کے ایک ملک منتقل کرکے طبی امداد دی گئی۔رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جہاز پر امریکی اہلکار بھی موجود تھے، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وہ سرکاری اہلکار تھے یا نجی شعبے سے وابستہ افراد۔ جہاز کا نام، آپریٹر، پرچم اور اس کی امریکا کے ساتھ معاہدے کی نوعیت بھی فوری طور پر سامنے نہیں آئی۔ امریکی فوج نے بھی واقعے کی تفصیلی تصدیق یا جہاز کی شناخت کے حوالے سے تاحال عوامی بیان جاری نہیں کیا۔یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت شدید متاثر ہے۔ حالیہ دنوں میں اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد معمول سے نمایاں کم ہوئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق 16 ستمبر کو صرف تین تجارتی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ اس سے ایک روز قبل یہ تعداد 12 تھی اور 10 روزہ اوسط تقریباً 17 جہاز روزانہ تھی۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے، اس لیے یہاں بحری جہازوں پر حملوں اور آمدورفت میں کمی نے عالمی تیل کی سپلائی اور سمندری تجارت کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ گزشتہ ہفتے بھی خطے میں متعدد بحری جہازوں کو حملوں کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی تھیں۔تازہ حملے سے آبنائے ہرمز میں امریکی اور تجارتی جہازوں کی حفاظت کے حوالے سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی ہے، جبکہ خطے میں جاری فوجی کشیدگی کے باعث معمول کی بحری تجارت کی بحالی بھی مشکلات سے دوچار ہے۔