پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی میں افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے،نام نہاد ایکشن کمیٹی کو ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کالعدم قرار دیا گیا
کالعدم ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 37 مطالبات پورے یا جزوی طور پر مانے گئے اور ان پر عملدرآمد بھی شروع کیا گیا:وزیر مملکت
اسلام آباد(آئی این پی ) وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی میں افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے، آزاد کشمیر میں افغانستان سے اسلحہ پہنچایا جارہا ہے، نام نہاد ایکشن کمیٹی کو ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کالعدم قرار دیا گیا۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کیخلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن جاری ہیں،پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے،اس حوالے سے پریس کانفرنس میں مختلف ویڈیوز بھی چلائی گئیں۔طلال چوہدری نے کہا کہ ٹیرر کرائم نیٹ ورک پاکستان میں دہشت گردی کیلئے سہولت فراہم کرتا ہے، نیٹ ورک کو پکڑنے کا آغاز ایک ضیا نامی شخص سے ہوا، یہ شخص آزاد کشمیر کا ہی رہنے والا ہے جو 8 سے 10 سالوں سے اسلحے کا کام کررہا ہے،یہ شخص پچھلے 2 سال سے جیک(عوامی ایکشن کمیٹی) کالعدم کے قریبی لوگوں کو اسلحہ فراہم کررہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس شخص کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب ہماری سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی گئی،اس کے موبائل سے تمام معلومات ملیں ،ضیا کا رابطہ ایک ماجد نامی شخص سے تھا، ماجد ، سردار امان جو کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے سرگرم رکن ہیں ، اس کا کارخاص ہے، پریس کانفرنس میں دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کی آڈیو ریکارڈنگ بھی چلائی گئی ۔