افغانستان سے دہشت گرد پاکستان آ رہے ہیں، دہشتگرد ڈالرز کے عوض کارروائیاں کرتے ہیں، پی ٹی آئی قیادت دہشت گردوں کی مالی معاونت میں ملوث ہے:طلال چودھری

خیبرپختونخوا میں  ایمرجنسی لگے گی وزیرقانون پی ٹی آئی واضح کرے پاکستان کیساتھ ہے یا افغانستان ؟عطاء تارڑ
جو آئین میں درج ضروریات ہیں وہ پوری ہوں تو بالکل یہ سب ہوگا‘ آئین  بڑا واضح ہے،  جو آئین میں میکنزم ہے وہ جب تقاضا کرے گا تو یہ ساری چیزیں ہوں گی:اعظم نذیر تارڑکی نجی ٹی وی سے گفتگو
 وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا سے 800 ارب  کا حساب مانگا ہے، خیبرپختونخوا کی قیادت کی نااہلی کے باعث صوبہ بدامنی کا شکار ہے ‘ پاکستان میں بدامنی ہے تو اس میں صوبائی حکومت کی ناکامی بھی شامل ہے:طلال چودھری
خیبرپختونخوا کی موجودہ قیادت کی نیت اور طبیعت خراب ہے ‘ صوبے میں تحریک انصاف کی قیادت کالعدم ٹی ٹی پی کی بی ٹیم ہے‘ پی ٹی آئی دہشت گردوں کی مالی معاونت کرتی  ہے:عطاء تارڑ‘پریس کانفرنس
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک‘ایجنسیاں)وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے  خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگے تو بالکل لگنی چاہیے اور لگے گی بھی، جو آئین میں درج ضروریات ہیں وہ پوری ہوں تو بالکل یہ سب ہوگا۔انہوںنے  نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں کہا ہے  ایمرجنسی کا اطلاق پر آئین بہت واضح ہے۔صحافی نے سوال کیا  کے پی میں گورنر رول کی بات ہو رہی ہے تو اس کا کوئی طریقہ کار زیرغور ہے اور اگرہے تو وہ کیا ہوگا؟اعظم نذیر تارڑ نے  جواب دیتے ہوئے کہا   حالات ایسے ہیں کہ آئین تقاضا کرے، خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگے تو بالکل لگنی چاہیے اور لگے گی بھی، جو آئین میں درج ضروریات ہیں وہ پوری ہوں تو بالکل یہ سب ہوگا۔ آئین ہمارا بڑا واضح ہے، پھرکہوں گا کہ جو آئین میں میکنزم ہے وہ جب تقاضا کرے گا تو یہ ساری چیزیں ہوں گی۔دریں اثناء  وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے  افغانستان سے دہشتگردوں کی تشکیلیں پاکستان آ رہی ہیں، دہشتگرد ڈالرز کے عوض کارروائیاں کرتے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی قیادت دہشت گردوں کی مالی معاونت میں ملوث ہے۔اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے کہا  ڈی آئی خان امن میلہ چیک پوسٹ پر دہشت گردی کے واقعہ میں خواتین اور بچوں سمیت شہری شہید ہوئے، جبکہ دہشت گردوں نے ریسکیو اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گرد کارروائیوں کے بعد اپنے ساتھیوں کی تصاویر اور فوٹیج سوشل میڈیا پر جاری کرتے ہیں، ڈی آئی خان حملے میں ایک دہشت گرد کی تصویر فوری طور پر سسٹم میں ڈال کر نادرا اور دیگر ریکارڈ سے چیک کی گئی تاہم اس کی کوئی شناخت نہیں ملی، اوپن سورس معلومات سے معلوم ہوا کہ وہ افغانستان کے دارالحکومت کابل کا رہائشی تھا‘وزیر مملکت داخلہ نے کہا کہ دہشتگرد ڈالرز کے عوض کارروائیاں کرتے ہیں، دہشت گردی کا مقصد پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا ہے اور افغانستان اس معاملے میں ایک ’سپر پراکسی‘ کا کردار ادا کر رہا ہے، ۔وزیر مملکت داخلہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی سیاسی قیادت گزشتہ 14 برس کے دوران سکیورٹی فورسز کے پیچھے کھڑی نہیں ہوئی، صوبائی حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوبہ وسائل فراہم نہیں کیے، آج تک پورے خیبرپختونخوا میں فورسز کو وہ سہولتیں حاصل نہیں جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے درکار ہیں۔ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا سے 800 ارب روپے کا حساب مانگا ہے، خیبرپختونخوا کی قیادت کی نااہلی کے باعث صوبہ بدامنی کا شکار ہے اور اگر پاکستان میں بدامنی ہے تو اس میں صوبائی حکومت کی ناکامی بھی شامل ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا  خیبرپختونخوا کی موجودہ قیادت کی نیت اور طبیعت خراب ہے اور وہ اپنے اس مؤقف پر قائم ہیں کہ صوبے میں تحریک انصاف کی قیادت کالعدم ٹی ٹی پی کی بی ٹیم ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی دہشت گردوں کی مالی معاونت میں ملوث ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں کیوں چل رہی ہیں، حتیٰ کہ موٹر سائیکلوں پر بھی نمبر پلیٹ موجود نہیں، پی ٹی آئی صوبے میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو جان بوجھ کر قانونی دائرے میں نہیں لا رہی اور یہی گاڑیاں دہشت گرد کارروائیوں میں استعمال ہوتی ہیں۔؟ انہوں نے کہا  سیاست اپنی جگہ، لیکن دہشت گردی کے معاملے پر واضح فیصلہ کرنا ہوگا  افغانستان کے ساتھ ہیں یا پاکستان کے ساتھ۔عطا تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف نے ساڑھے 12 سال سے زائد عرصے تک حکومت کی ہے، لیکن صوبے کے عوام آج بھی بنیادی سہولیات کے حصول کے لیے دوسرے صوبوں کا رخ کرتے ہیں۔ صوبائی حکومت بتائے کہ صحت کے شعبے میں کیا اقدامات کیے گئے۔