حالیہ دنوں میں ملک میں بڑھتے ہوئے عوامی احتجاج اور سیاسی عدم استحکام کے بعد سابق صدر آندری راجولینا نے پارلیمنٹ تحلیل کر دی تھی۔ اس کے بعد فوج نے اقتدار سنبھالتے ہوئے رینڈریانرینا کو عبوری صدر مقرر کیا۔
ذرائع کے مطابق مڈغاسکر میں پانی و بجلی کی شدید قلت، بدعنوانی، خراب طرزِ حکمرانی اور بنیادی سہولتوں کی کمی کے خلاف نوجوان نسل (جین زی) کی جانب سے بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے گئے تھے۔ان مظاہروں کے دوران پولیس اور فوج کی براہِ راست مداخلت سے پرتشدد جھڑپیں ہوئیں جن میں 22 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ رینڈریانرینا کی صدارت ملک میں سیاسی استحکام لانے اور اصلاحات کے نفاذ کے لیے ایک عبوری مرحلہ ہو سکتی ہے، تاہم عوامی اعتماد کی بحالی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔