پنجاب کابینہ کی ٹی ایل پی پر پابندی کی منظوری، عظمیٰ بخاری

پنجاب کابینہ کی ٹی ایل پی پر پابندی کی منظوری، عظمیٰ بخاری

وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمٰی بخاری نے لاہور میں پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ پنجاب کابینہ نے تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی کی منظوری دے دی ہے اور پابندی کی سمری وفاقی حکومت کو بھیج دی گئی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے کسی مسجد یا مدرسے کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا بلکہ تشدد پسند عناصر کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔عظمٰی بخاری نے کہا کہ پاکستان میں مذہبی جماعتیں جمہوری عمل کا حصہ رہی ہیں مگر مذہب کے نام پر طاقت یا تشدد مسلط کرنا قبول نہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ غزہ کے نام پر کی گئی حالیہ احتجاجی کال غیر موزوں اور غیر جواز ہے، جبکہ اس احتجاج نے خونی رنگ اختیار کر لیا اور فرقہ وارانہ اشتعال پھیلانے والے عناصر نے ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ احتجاج کے دوران پنجاب پولیس کو درجنوں جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا: ایک انسپکٹر شہید ہوا، کئی اہلکار زخمی ہوئے (بیان کے مطابق 1,648 زخمی اور 50 سے زائد معذور)، پولیس گاڑیوں کو نقصان پہنچا اور متعدد مقامات پر فائرنگ بھی ہوئی۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ یہ کسی پرامن احتجاج کی مثال نہیں ہے۔

سخت ضابطے اور اقدامات
عظمٰی بخاری نے پابندی کے علاوہ درج ذیل اقدامات کا اعلان کیا:تشدد پسند گروہ کے بینک اکاؤنٹس اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس سیل کیے جائیں گے (عمل جاری و کافی حد تک مکمل ہو چکا ہے)۔لاؤڈ اسپیکرز صرف اذان اور خطبات تک محدود رہیں گے؛ اشتعال انگیزی یا نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کی اجازت نہیں۔نئے اسلحہ لائسنس جاری کرنے پر پابندی، اور اسلحے کی نمائش پر مکمل پابندی۔غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کو ایک ماہ میں جمع کروانے کی ہدایت؛ ورنہ دہشت گردی دفعات کے تحت کارروائی کی جائے گی۔قانونی اسلحہ رکھنے والے افراد کو اپنے ہتھیار پولیس سروس سینٹرز پر رجسٹر کروانے ہوں گے، ورنہ قانونی کارروائی ہوگی۔پنجاب حکومت پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی کرے گی جہاں ضرورت ہو۔عظمٰی بخاری نے زور دے کر کہا کہ یہ اقدامات کسی مذہب یا عقیدے کے خلاف نہیں، بلکہ ریاست کی رٹ اور عوام کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں حالات خرابی کی طرف لے جانے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی اور حکومت اس کی اجازت نہیں دے گی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ عوام، تاجر اور دیگر شعبے احتجاج کی کال کو مسترد کر چکے ہیں اور صوبے کے تمام بازار کھلے ہیں، اس لیے ملک یا صوبہ بند کروانے کی کوشش قبول نہیں کی جائے گی۔