پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے واضح کیا ہے کہ کسی نجی تنظیم یا عام افراد کو سیلاب متاثرین میں کھانا تقسیم کرنے سے نہیں روکا گیا، تاہم حکومت نے چند حفاظتی اقدامات کی ہدایت دی ہے۔
عظمیٰ بخاری کے مطابق، پنجاب حکومت نے صرف یہ کہا ہے کہ کھانا تقسیم کرنے سے پہلے ضلعی انتظامیہ اور فوڈ اتھارٹی سے معائنہ کروایا جائے تاکہ متاثرین کو صرف معیاری اور محفوظ کھانا فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ بعض جگہوں پر غیر معیاری کھانے کی تقسیم کی شکایات موصول ہوئی ہیں، اور اسی لیے یہ ہدایات جاری کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا:کچھ افراد اس معاملے پر جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔یہ اقدامات سیلاب متاثرین کی صحت کے تحفظ کے لیے ہیں اور انہیں سیاسی فائدے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
سیلاب کے بعد متاثرہ علاقوں میں بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ موجود ہے، اس لیے یہ اقدامات ناگزیر ہیں۔وزیر اطلاعات نے مریم نواز کے کردار پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ وہ ہر جگہ خود جا رہی ہیں تاکہ انتظامیہ کو یہ بھی پتہ ہو کہ کسی کی نگرانی موجود ہے۔ عوام بھی یہ جانتے ہیں کہ ان کی وزیراعلیٰ ہر حال میں ہر جگہ ان کے ساتھ کھڑی ہے۔یہ اقدامات پنجاب حکومت کی جانب سے سیلاب متاثرین کی صحت، خوراک کی معیاری فراہمی، اور علاقے میں ممکنہ وبائی امراض سے بچاؤ کے لیے کیے جا رہے ہیں۔