27ویں ترمیم ---بلندیوں کی جانب ایک اور سفر

طلعت بٹ
26ویں ترمیم کے بعد حکومت نے 27ویں ترمیم بھی منظو ر کرلی‘یہ حکومت کی بہت بڑی کامیابی ہے‘ترمیم منظور ہونے سے نئی تاریخ رقم ہو گئی‘ملک کی تاریخ میں پہلی بار وفاقی آئینی عدالت قائم کر دی گئی‘جس کے پہلے چیف جسٹس بننے کا ااعزاز جسٹس امین الدین خان نے حاصل کیا ہے‘اس کے علاوہ آرمی ایکٹ میں بھی ترامیم کی گئی ہیں اور ایک نیا عہدہ چیف آف ڈیفنس فورسز بنایا گیا‘اب آرمی چیف اس عہدے پر فائز ہوں گے اور وہ تینوں مسلح افواج کے سربراہ ہوں گے۔فیلڈمارشل جنرل سیدعاصم منیراوروزیراعظم میاں شہبازشریف کی پاٹنرشپ  تاریخ کے صفحات پرایسی داستان رقم کررہی ہے  جسے  کئی صدیوں تک بطورمثال پیش کیاجائے گا۔بطوروزیراعظم میاں شہبازشریف کامستقبل بھی بڑی حد تک روشن معلوم ہوتاہے ۔پاکستان کے دشمنوں کے سرپربجلی بن کرگرنے والے فیلڈمارشل کاپاکستاں کی انتظامی باڈی کاحصہ رہناملک دشمنوں کیلئے سزائے موت سے کم خبرنہیں۔فیلڈمارشل پاکستان کھلے اورپوشیدہ دشمنوں کیخلاف حتمی کارروائی کاواضح ارادہ رکھتے ہیں جس کے عملی نمونے ہندوستان کے خلاف معرکہ حق اورپھرافغان سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کی کارروائیوں کے خلاف بروقت اورموثرجوابی کارروائی بھی دنیادیکھ چکی ہے۔ ماضی میں ہم نے دیکھا کہ عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان فاصلہ اکثر غیر یقینی حالات پیدا کرتا رہا، آج منظرنامہ مختلف ہے۔ دونوں قیادتیں ایک ہی صفحے پر دکھائی دیتی ہیں، ایک ہی سمت میں سوچتی ہیں اور ایک دوسرے کے فیصلوں کو تقویت دیتی ہیں۔ یہی بات اس پارٹنرشپ کو منفرد اور تاریخی بناتی ہے۔27ویں آئینی ترمیم کے بعد فیلڈمارشل کے منصب کو جو آئینی پوزیشن ملی ہے، وہ وقتی نہیں بلکہ ریاستی تسلسل کی ضمانت ثابت ہوسکتی ہے۔ اس ترمیم نے فیلڈمارشل جنرل سید عاصم منیر کے کردار کو ایک مستقل اور ادارہ جاتی مضبوط حیثیت دے دی ہے۔فیلڈمارشل کے اقدامات نے ایک بات واضح کر دی ہے کہ وہ محض عسکری فیصلے نہیں کرتے بلکہ ریاستی ترجیحات کو سامنے رکھتے ہیں۔ بھارت کی جانب سے جارحیت کافوری اورموثر جواب ہو یا افغان سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے خلاف بروقت کارروائیاں، ان کے فیصلوں نے دشمنوں کے حوصلے پست کیے ہیں۔ فیلڈمارشل کے طرزِ قیادت نے پاکستان کے عوام میں اعتماداورتحفظ کا احساس پیدا کیا ہے۔ لوگوں کو محسوس ہو رہا ہے کہ اب ملک کی باگ ڈور ایسے ہاتھوں میں ہے جو وقتی سیاست سے بالاتر ہو کر سوچتے ہیں۔وزیراعظم میاں شہباز شریف کی انتظامی صلاحیت، تیز فیصلے کرنے کی عادت اور محنت کی شہرت ان کی قیادت کو عوامی قبولیت بخش رہی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ قومی استحکام صرف سڑکوں، منصوبوں اور بجلی گھروں سے نہیں آتا بلکہ سیاسی ہم آہنگی سے آتا ہے۔ ان کا فیلڈمارشل کے ساتھ اشتراک اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ سول اور عسکری قیادت کے درمیان اب کشمکش نہیں بلکہ اشتراکِ عمل کا دور ہے۔ یہی وہ توازن ہے جس کی قوم کو دہائیوں سے ضرورت تھی۔تاحیات فیلڈمارشل کا تصور بظاہر غیر روایتی محسوس ہوتا ہے جبکہ موجودہ علاقائی اور عالمی حالات کے پیش نظر یہ فیصلہ قومی سلامتی کے لیے مفیدثابت ہوگا۔ پاکستان کے گرد موجود سکیورٹی خطرات، اقتصادی دباؤ اور اندرونی انتشار کے دوران ایک مستقل عسکری قیادت کے ہونے سے فیصلوں میں تسلسل ممکن ہو گااور پالیسیوں میں واضح سمت اور ادارہ جاتی نظم پیدا ہونے کی امیدہے۔ تاہم یہ تسلسل اس وقت فائدہ مند ہوگا جب اس کے ساتھ شفافیت، پارلیمانی نگرانی اور عوامی اعتماد بھی قائم رہے۔عوامی سطح پر فیلڈمارشل کے لیے احترام اور اعتماد موجود ہے۔ لوگ انہیں ایک ایسے محافظ کے طور پر دیکھتے ہیں جو ملک کے دشمنوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے لیے بھی آنے والا وقت فیصلہ کن ہے۔ وہ معیشت، تعلیم، صحت اور روزگار کے شعبوں میں وہی تسلسل دکھا سکے جو فیلڈمارشل دفاعی میدان میں دکھا رہے ہیں تو یہ قیادت آنے والی نسلوں کے لیے ایک تاریخی مثال بن سکتی ہے۔ اس وقت پاکستان کی عوام مایوسی کے اندھیروں سے نکلنے کے لیے ایک ایسی امید کی تلاش میں ہیں جو انہیں استحکام دے، عزت دے اور محفوظ مستقبل کا احساس دلائے۔