امجد علی
جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر زمین پر اپنا نائب مقرر کیا، تو اس کے ساتھ ہی اسے مسلسل درپیش کٹھن امتحانوں میں بھی ڈال دیا۔ زمین پر بقاء اور تعمیر کا سفر درحقیقت ایک مسلسل جدوجہد، بحرانوں کے انتظامات، اور مصائب سے نبردآزما ہونے کی کہانی ہے۔ چونکہ اللہ نے انسان کو زمین کا مینیجر بنایا ہے، اس لیے انسان نے کامیابی کی یہ داستان اپنے حوصلے، بصیرت، اور عزم سے لکھی ہے۔
اسی آزمائشی سفر میں انسان نے پتھریلے غاروں، جنگلوں، ندی نالوں، زہریلے حشرات اور خوف ناک درندوں کے درمیان رہ کر زندگی گزارنے کا ہنر سیکھا۔ وہ مشکلات سے گھبرا کر نہیں بلکہ ان سے سیکھ کر آگے بڑھا۔ یہی اس کی عظمت کی دلیل ہے۔ کر? ارض مصائب و آلام سے بھری ایک پرخار بستی ہے، جہاں انسان کو ہر روز مسائل کا سامنا ہوتا ہے اور ان کے حل کی ذمہ داری بھی اسی کو کرنی ہے۔ وہ خوف سے نبردآزما ہوا، مشکلوں کا سینہ چیرتا ہوا آگے بڑھتا رہا۔ زمین کو جنت بنانے کی خواہش کو پورا کرتے کرتے وہ بستیوں، گاؤں، شہروں اور بالآخر ملکوں کا معمار بنا۔
اسی جستجو میں برصغیر کے مسلمانوں نے بھی جب اپنے دین، تہذیب، اور تشخص کو خطرے میں پایا تو انہوں نے ایک الگ وطن کا خواب دیکھا۔ علامہ اقبال کے تصور نے اس خواب کو معنی دیے، اور قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں اسے ایک تحریک کی صورت دی گئی۔ "پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الا اللہ" محض نعرہ نہیں، ایک عہد تھا، ایک نظریہ، ایک نظریاتی جنگ تھا۔
یہ آزادی تحفے میں نہیں ملی۔ یہ سرزمین کسی عطیے یا کسی ٹیبل ڈیل سے وجود میں نہیں آئی۔ یہ تو قربانیوں کی اس سرخ زمین پر پھوٹا ایک شجر ہے، جس میں ماؤں کے جگر گوشے دفن ہیں، جسے آنکھوں کے آنسوؤں، عصمتوں کی پامالی، اور لہو کی ندیوں سے سینچا گیا ہے۔ یہ وہ بستی ہے جو آگ اور خون کے دریاؤں کو عبور کر کے بسائی گئی۔ جہاں لاکھوں مسلمان صرف جائیدادیں ہی نہیں، بلکہ اپنی ماؤں کی گودیں، بیٹیوں کے دوپٹے، اور بیٹوں کی گردنیں چھوڑ کر نکلے تھے۔
یہ کوئی عام ہجرت نہ تھی، یہ سفر مقتل کی طرف سے ہو کر جاتا راستہ تھا۔
جب قافلے چلے، تو منزل آزادی تھی، مگر راستہ نوچتے ہوئے درندوں سے بھرا تھا۔ وہ درندے، جن کے ہاتھوں میں کلہاڑیاں تھیں، جن کی آنکھوں میں وحشت تھی، جن کے سینے میں حیوانیت اور بس حیوانیت بھری تھی۔ وہ ہندو اور سکھ جتھے جنہوں نے دریا کو خون، اور راستوں کو لاشوں سے بھر دیا تھا۔
نرم و نازک جوان سالہ بچیوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا گیا، ماؤں کے سامنے ان کے لعلوں کو نیزوں پر اچھالا گیا، دلہن کے عروسی لباس خون رنگ ہو گئے، اور شیر خوار بچوں کو لہو لہو کیا گیا۔ ریلوے اسٹیشن، نہر کے کنارے، درختوں کی چھاؤں ہر جگہ خون، ہر طرف موت، ہر چہرہ سوال بن گیا۔
مگر اس اندھی ظلم و بربریت اور قتل غارت گری کا جواب دینے کوئی نہ آیا۔ نہ کوئی حکومت، نہ کوئی وائسرائے، نہ کوئی قانون۔ جیسے انسانیت بھی اس ہجرت سے منہ موڑ چکی تھی۔
پھر بھی، یہ وہ لوگ تھے جو کلمے کے نام پر نکلے تھے۔ جن کے ہاتھ میں نہ بندوق تھی، نہ ڈنڈا، صرف انسانیت سے محبت اور "لا الٰہ الا اللہ" کی لو تھی۔ یہ ہجرت نہیں تھی، یہ جہادِ اصغر تھا۔ یہ وہ چراغ تھے جو خون جلا کر روشن کیے گئے۔ یہ وہ اذانیں تھیں جو گرتے لاشوں کے سائے میں بھی بلند ہوئیں۔
اور آج، اگر کوئی اس آزادی کو معمولی سمجھے، تو اسے یاد دلاؤں کہ وہ ان ماؤں کے آنسو بھول گیا ہے! اس نے ان بیٹیوں کی چیخیں نہیں سنی، اور وہ ان شہیدوں کا خون فراموش کر بیٹھا ہے جنہوں نے پاکستان کی بنیادوں کو اپنے لہو سے سینچا تھا؟
لیکن آفرین ہے کہ کلمے کی بنیاد پر حاصل ہونے والی ریاست کے لیے ان کی استقامت میں لغزش نہ آئی۔
14 اگست 1947 اسی جدوجہد کا صلہ تھا۔
لہذا یہ دن محض ایک تاریخ نہیں، ایک داستان ہے! آزادی کی، قربانی کی، اور ایک نظریے کی جس کے لیے لاکھوں جانیں قربان ہوئیں۔ پاکستان صرف جغرافیائی نہیں، نظریاتی مملکت ہے، ایک ایسی ریاست جہاں مسلمان اپنی مذہبی، تہذیبی، اور روحانی شناخت کے ساتھ
آزادی سے زندہ رہ سکیں۔
مگر افسوس آج اٹھہتر سال گذرنے کے بعد بھی یہ سوال ہمارے سامنے سر اٹھائے پوچھ رہا ہے
کہ کیا ہم اس آزادی کے اہل ہیں؟
کیا ہم نے اْس وعدے کو نبھایا جو ہمارے آباؤ اجداد نے خون سے لکھا تھا؟
کیا ہمارے قائدین نے اْس نظریے کی حفاظت کی جس پر پاکستان کی بنیاد رکھی گئی تھی؟
کیا ہم نے ان لاکھوں جانوں کی قربانی کا فرض چکا دیا ہے یا ہم نے اپنے غیر ذمہ دارانہ قول و فعل سے اسے خاک میں ملا دیا ہے؟
بدقسمتی سے، پاکستان کو زیادہ نقصان دشمنوں سے نہیں، بلکہ اپنوں کی کوتاہیوں، مفاد پرستی اور نااہلی سے ہوا ہے۔
قائداعظم کا ویڑن انصاف، قانون کی حکمرانی، اقلیتوں کے تحفظ اور ریاستی امانت داری پر تھا۔ ایک ایسی ریاست جس میں شہریوں کو مکمل آزادی اعمال و اظہار رائے حاصل ہو۔ اسلام کے نام پر بننے والی مملکت کو انسانیت کے جذبوں اور اسلامی روایات سے بنے ہوئے معاشرے کی نمائندہ ایک مکمل آزاد ریاست بنانا تھا۔ جنگلات کے خطے، زمین کو مہکتا گلستان بنانا تھا۔ خلاؤں، فضاوں اور افلاک کو مسخر کرنا تھا۔ مگر ہمارے حکمرانوں نے اس ویڑن کو ذاتی مفادات، اقربا پروری، کرپشن، اور اقتدار کی ہوس میں دفن کر دیا۔
کرپشن کے طفیل قومی ادارے حد درجہ کمزور ہوئے، نظامِ تعلیم نظریے سے خالی ہو گیا، انصاف جسے ہوتا نظر آنا تھا وہ بکنے لگا بلکہ سر عام بکتا ہوا نظر آنے لگا، بازاروں سے لے کر ایوانوں تک بکنے لگا۔ پھر ارباب اختیار کی سوچ بدلی، اس میں "پاکستان" کی جگہ "میں" (ذات) نے لے لی۔ نتیجتاً "میں" آگے اور ملک, پورے خطے میں پیچھے رہ گیا۔ ہم سب کو ایک ہی سبق پڑھایا گیا کہ "اے ٹی ایم" مشین بنیں۔ اصول و قوانین کی گردن پر قدم رکھ کر اوپر والے کو یس سر کہنے کا وطیرہ ہی کامیابی کی علامت بن گیا۔
اگر ہمارے رویے یہی رہیں گے، سورس آف انسپائریشن لوٹ مار، پیسہ ہی رہے گا تو ملک کی گاڑی اگے کی طرف جانے کی بجائے ریورس گئیر میں ہی چلے گا۔
نیشنل ازم کی بجائے ذاتی سیاست، پارٹی مفادات، اور غیرملکی ایجنڈوں نے قوم کو تقسیم کر دیا۔ ہم نے نہ اقلیتوں کو اْن کا حق دیا، نہ عدل و احتساب کو مضبوط کیا، اور نہ سائنسی میدان میں تعلیم و تحقیق کو ترجیح اول بنایا، اور نہ ہی اخلاقی تربیت کو ترویج دی۔
انفرادی سطح پر بے راہ روی، اشرافیہ اور قومی سطح پر "لا از مائی فٹ" کی سوچ کو تقویت ملی ہے۔ ہمارے اکابرین، اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والے فیصلہ سازوں نے قیادت کی ذمہ داری نبھانے کی بجائے سوداگری میں مہارت حاصل کر لی ہے۔ ان کی حالت بالکل چاندی کے برتن جیسی ہے، جو بظاہر چمکیلے، سفید اور اجلے لگتے ہیں، جبکہ اس کے لمس سے ہاتھ اور کپڑے سیاہ ہو جاتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ چیزوں کی ظاہری حالت سے ان کی باطنی حقیقت اور افادیت کا اندازہ لگانا صریحاً غلط ہے۔
لہذا خود اپنی زبان و بیان اور تراش خراش میں تو یہ لوگ انتہائی بھلے لگتے ہیں مگر حقیقت حال سے سبھی واقف حال ہیں۔ ان کے غلط، ناقص یا ذاتی مفاد میں کیے گئے فیصلوں کی سزا قوم کو اپنے خون جگر سے ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ جیسے کہ آئی پی پی معاہدوں کے غیر دانشمندانہ، ذاتی مفادات پر مبنی فیصلے کے باعث ہر غریب شہری لٹ کے رہ گیا ہے۔
آج قوم مہنگائی، بے روزگاری، کرپشن، اور ذہنی غلامی کے اندھیروں میں گِھری ہوئی ہے، مگر یہ سب ہماری اپنی اندرونی کمزوریوں، بے سمتی، اور خود غرضی کا نتیجہ ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم محض ماضی کے فخر کی تخیلاتی خوش فہمی میں زندہ رہنے کی بجائے، حال کی ذمہ داری کو قبول کریں، اور مسلسل انتھک لگن سے مستقبل کی راہ روشن کریں۔ اس حسن اور وقار سے نئی راہوں پر چلیں کہ پیچھے آنے والے آپ کے فوٹ پرنٹس کی تقلید کو نشانِ کامرانی مانیں۔
یومِ آزادی محض ترانے گانے، جھنڈے لہرانے یا آتش بازی کا موقع نہیں، بلکہ یہ خوداحتسابی، تجدیدِ عہد اور قومی تعمیرِ نو کا دن ہے۔ یہ دن ہمیں، ہمارے نوجوانوں کو، اور ہماری قیادت کو پکار پکار کر کہتا ہے
"اْٹھو! پاکستان کی تعمیر و تکمیل کو مکمل کرو"
کہ ہر استاد اپنے شاگرد کو یہ احساس دے کہ وہ اس ملک کا معمار ہے۔
ہر والدین اپنے بچوں کو یہ شعور دیں کہ آزادی کوئی تحفہ نہیں، ایک امانت ہے۔
ہر نوجوان اس عہد کی تجدید کرے کہ وہ پاکستان کو ایک بار پھر علم، اخلاق، اتحاد، اصول اور قربانی کی روشنی سے
منور کرے گا، اور ایوانوں میں بیٹھا ہر نمائندہ اپنی سوچ کا مرکز و محور صرف پاکستان اور اس کے عوام کو بنائے۔ اس کا ہر فیصلہ ملک و ملت اور دینِ اسلام کے مفاد کی گواہ نظر ائے۔
یاد رکھیں، پاکستان ابھی مکمل نہیں ہوا... پاکستان کا
سنورنا اور اسکی تکمیل ابھی باقی ہے۔ اس کی تدریجی تکمیل ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
علامہ اقبال فردِ واحد کو بھی ملت کی تقدیر بدلنے کا استعارہ سمجھتے تھے۔ وہ کہتے ہیں
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا
انہی کے خوابوں، افکار اور یقینِ محکم کی روشنی میں قائداعظم کی قیادت اور شبانہ روز محنت نے ہمیں یہ ملک دیا ہے۔ اگر ایک فرد خواب دیکھ سکتا ہے، اور دوسرا اسے تعبیر
دے سکتا ہے تو آج پچیس کروڑ کی یہ قوم اپنی کوشش سے پاکستان کی تعمیر و ترقی کی نئی داستان کیوں نہیں لکھ سکتی؟
سب کچھ ممکن ہے اگر ہم میں اخلاص، اتحاد اور اپنے ضمیر سے جْڑنے کی ہمت ہو۔
ہم اقبال والے ہیں، نااْمید نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں۔
نہیں ہے نااْمید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
کیا ہماری ملت میں ایسے نوجوان نہیں جو ٹیکنالوجی کی طاقت سے خلا کو مسخر کریں؟
جو نظریاتی بصیرت کو سائنسی انقلاب سے جوڑ کر دنیا کو حیرت میں ڈال دیں؟
کیا ہماری جامعات ایسے نوجوان پیدا نہیں کر سکتیں جو چاند، مریخ، مصنوعی ذہانت، اور کوانٹم کمپیوٹنگ جیسے میدانوں میں دنیا کی قیادت کریں؟
کیوں نہ ہم اپنے نوجوان کو اقبال کے خوابوں کے شاہین کو حقیقت کا روپ دیں جو صرف سوچتا ہی نہیں، بلکہ عزم، یقین، اور عمل سے تاریخ کا دھارا بدلنے کا ہنر بھی رکھتا ہو؟
جو ستاروں پر کمند ڈالے، جو خیال کو بلند کرے اور خواب کو تعبیر بخشے۔
محبت مجھے اْن جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
تاکہ ہم محسوس کر سکیں کہ اقبال نے افکار کے جو بیج اشعار کی سرزمین میں بوئے تھے، آج آسمان کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ ان کی بلندیء پرواز سے کہکشائیں خوفزدہ ہیں
عروجِ آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہِ کامل نہ بن جائے
لہٰذا، آئیں
اس 14 اگست پر صرف جشن نہ منائیں، بلکہ اقبال کے افکار کی روشنی میں اس وطن کی فکری، نظریاتی اور عملی حفاظت کا بھی پختہ عزم کریں۔
ہمیں پھر سے اْس شعل? یقین کو روشن کرنا ہے جس پر پاکستان کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ جو اس نسل کے بجھتے افکار کو پھر سے روشن کرے۔
پاکستان کو ایک نظریاتی قلعہ، ایک ماڈل ریاست، اور امتِ مسلمہ کا فخر بنانا ہے۔
یہ خواب آج بھی ممکن ہے اگر ہم اخلاص، اتحاد، اور عمل کا پیکر بن جائیں۔
ہمیں ایسا پاکستان بنانا ہے جو صرف اپنے لیے نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے امن، عدل اور آزادی کا چراغ ہو۔
جو ظلم و جبر کی تاریکی میں مینارِ نور بنے،
تاریکیوں میں ڈوبی بستیوں کے لیے شہابِ ثاقب،
صحراؤں کے لیے نخلستان،
اور ویران دلوں کے لیے مہکتا ہوا گلستاں ہو۔
ایک ایسا پاکستان جو مفاد پرست جمہوریتوں کے دھوکے سے مبراء ہو،
اور سچائی، اخلاص، اور خدمتِ خلق کی بنیاد پر دنیا کو نئی سمت عطا کرے۔
جہاں ہر ذرہ کہکشاں بن جائے،
ہر فرد ملت کا ستارہ ہو،
اور علم و تحقیق ہی پاکستان کی پہچان ہو۔
ہمیں خاص طور پر فضاؤں اور آئی ٹی کے میدان میں اپنے نوجوانوں کو مکمل سرپرستی دے کر دنیا میں نامور بنانا ہے۔
ہم یہ سب کچھ کر سکتے ہیں اگر ہم اپنی اصل کو پہچانیں، اور اپنی ذات کو قوم کی تقدیر سے جوڑ دیں۔
اور آخر میں، مفکرِ پاکستان کے وہ اشعار جو ہر نوجوان کے دل پر دستک دیتے ہیں، جن میں پیغام بھی ہے، یقین بھی، اور عزم کی للکار بھی
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خْدا بندے سے خود پوچھے، بتا، تیری رضا کیا ہے
نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تْو شاہیں ہے، بسیرہ کر پہاڑوں کی چٹانوں پر
ضمیرِ لالہ میں روشن چراغِ آرزو کر دے
چمن کے ذرّے ذرّے کو شہیدِ جْستجو کر دے
خدائے لم یزل کا دستِ قْدرت تْو، زباں تْو ہے
یقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوبِ گْماں تو ہے
سبَق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
سرشکِ چشمِ مْسلم میں ہے نیساں کا اثر پیدا
خلیل اللہ? کے دریا میں ہوں گے پھر گْہر پیدا
علامہ اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح
زندہ باد
پاکستان پائندہ باد