27ویں ترمیم: جمہوریت کا آئینی بحران یا فوجی بالا دستی کی ابتدا؟

عظیم نواب
پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں ایک نیا تنازعہ جنم لے رہا ہے: 27ویں آئینی ترمیم کی تجویز، جو فوجی قیادت کو غیر معمولی آئینی اختیارات دینے کے لیے پیش کی گئی ہے۔ یہ ترمیم صرف قانونی تبدیلی نہیں بلکہ ملک کے جمہوری ڈھانچے، عدلیہ کی آزادی، اور وفاقی توازن پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔تاریخ ہمیں واضح سبق دیتی ہے کہ جب کسی ایک ادارے یا فرد کو اختیار کی لامحدود طاقت دے دی جاتی ہے، تو ابتدا میں استحکام نظر آتا ہے، مگر آخرکار ملک بحران کا شکار ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر نپولین بوناپارٹ نے فرانس میں 1799 میں اقتدار سنبھالا۔ انقلاب کے بعد جو جمہوری اقدار قائم ہوئی تھیں، نپولین نے انہیں بالکل نظر انداز کر دیا اور خود کو مطلق حکمران بنا لیا۔ اس نے عدلیہ اور پارلیمنٹ پر کنٹرول قائم کیا، آزادی صحافت اور عوامی حقوق محدود کیے، اور فوجی مہمات میں اپنی طاقت دکھائی۔ ابتدا میں فرانس نے فوجی طاقت اور سیاسی استحکام محسوس کیا، لیکن آخرکار عوامی ناراضگی اور بیرونی طاقتوں کی مخالفت نے فرانس کو تباہی کی راہ پر ڈال دیا۔یہی خطرہ پاکستان میں بھی موجود ہے۔ 27ویں ترمیم کے ذریعے فوجی سربراہ کو "چیف آف ڈیفنس فورسز" کے اضافی اختیارات دیے جا رہے ہیں، عدلیہ کی حدود کم کی جا رہی ہیں، اور وفاقی اور صوبائی تعلقات میں توازن متاثر ہو رہا ہے۔ اگر یہ ترمیم بغیر عوامی حمایت اور شفاف بحث کے منظور ہو گئی، تو یہ جمہوری اداروں کی بالادستی کے لیے خطرہ ہے,جمہوری نظام میں عوامی نمائندوں اور عدلیہ کی آزادی مرکزی ستون ہیں۔ جب فوجی قیادت کو آئینی تحفظ دیا جائے گا، تو یہ ستون کمزور پڑ سکتے ہیں۔
 عدالتیں اگر آزادانہ فیصلے نہیں کر سکیں گی، تو آئین کی بالادستی اور عوامی اعتماد متاثر ہوگا۔ ترمیم کو عوامی مخالفت کے باوجود آگے بڑھایا جانا سیاسی استحکام کو خطرے میں ڈال سکتا ہے، جیسا کہ تاریخ نے بار بار دکھایا ہے۔نپولین کی مثال سے یہ واضح ہے کہ مطلق اختیارات وقتی فائدہ دکھاتے ہیں، لیکن آخرکار ملک کو بحران، سیاسی انتشار، اور عوامی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پاکستان میں اگر یہ ترمیم منظور ہو گئی، تو اس کے اثرات صرف آج کی حکومت تک محدود نہیں رہیں گے۔ آئندہ کے سیاسی منظرنامے، فوج اور سول حکمرانی کے تعلقات، اور عدلیہ کی خودمختاری سب متاثر ہوں گے۔ جمہوریت کی مضبوط بنیادیں بنانے کے لیے ضروری ہے کہ آئینی ترامیم میں شفافیت، عوامی مشاورت، اور اداروں کے توازن کو مدنظر رکھا جائے۔لہٰذا 27ویں ترمیم کا معاملہ صرف قانونی یا فوجی طاقت کا نہیں بلکہ آئینی، جمہوری اور تاریخی ذمہ داری کا بھی ہے۔ پاکستان کو یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا کہ آیا وہ تاریخ کے سبق سے سیکھے گا یا پھر مطلق اختیارات کی ابتدا سے تباہی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔