پاکستان کی معیشت: ایک مثبت موڑ کی جانب پیش قدمی

فاریہ ملک

ایشیائی ترقیاتی بینک  کی حالیہ آؤٹ لک رپورٹ پاکستانی معیشت کے لیے ایک خوش آئند اشارہ ہے۔ ایک ایسی معیشت جو کئی برسوں تک سیاسی عدم استحکام، غلط پالیسیوں اور عالمی بحرانوں کی زد میں رہی، اب ایک نئے سفر کا آغاز کر رہی ہے۔ یہ رپورٹ نہ صرف پاکستان کی معاشی سمت پر اعتماد کا اظہار کرتی ہے بلکہ حکومت کی اصلاحاتی کوششوں کو بھی ایک مثبت تناظر میں پیش کرتی ہے۔
رپورٹ کے اہم نکات اور شرح نمو کی پیش گوئی
ایشیائی ترقیاتی بینک نے 2025 میں پاکستان کی شرحِ نمو 2.5 فیصد اور 2026 میں 3 فیصد تک رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ بظاہر یہ اعداد و شمار معمولی محسوس ہو سکتے ہیں، لیکن ایک ایسے ملک کے لیے جو معاشی، سیاسی اور سماجی چیلنجز سے دوچار ہو، یہ پیش رفت درحقیقت ایک مضبوط اور مثبت آغاز ہے۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ سخت شرائط پر طے پانے والے پروگرام، مالیاتی نظم و ضبط، اور معاشی استحکام کے لیے اپنائی گئی پالیسیوں نے اس ترقی کی بنیاد رکھی ہے۔ مانیٹری پالیسی میں نرمی، توانائی اور ٹیکس کے شعبوں میں اصلاحات اور حکومتی عزم نے پاکستانی معیشت کو سہارا دیا ہے۔

مہنگائی میں کمی: ایک عام صارف کے لیے ریلیف
رپورٹ کے مطابق آئندہ مہینوں میں مہنگائی کی اوسط شرح 6 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ یہ پیش رفت اس امر کا ثبوت ہے کہ حکومتی پالیسی سازوں نے قیمتوں کے استحکام کو اولین ترجیح دی ہے۔ عالمی اجناس کی قیمتوں میں استحکام اور مقامی سطح پر طلب میں توازن نے اس مثبت پیش رفت کو ممکن بنایا۔ یہ عام شہری کے لیے یقیناً اطمینان بخش خبر ہے، کیونکہ قیمتوں میں کنٹرول براہ راست عوامی زندگی کو متاثر کرتا ہے۔

خواتین کی معاشی شمولیت: ایک نظر انداز شدہ شعبہ

رپورٹ کا سب سے اہم اور قابلِ غور پہلو خواتین کی لیبر فورس میں کمی کو معاشی ترقی میں رکاوٹ قرار دینا ہے۔ پاکستان میں نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے، لیکن ان کی معاشی شمولیت نہایت محدود ہے۔ تعلیم، تربیت، اور روزگار کے مساوی مواقع فراہم کیے بغیر نہ صرف معاشی ترقی کی رفتار سست ہو جاتی ہے بلکہ مواقع کے ضیاع کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

اگر حکومت اور نجی شعبہ خواتین کو معیشت میں فعال کردار دینے پر سنجیدگی سے توجہ دیں تو یہ ایک "گیم چینجر" ثابت ہو سکتا ہے۔ خواتین کی معاشی شرکت سے نہ صرف قومی پیداوار بڑھے گی بلکہ خاندانوں کی زندگی میں بہتری آئے گی اور سماجی ترقی کا دائرہ وسیع ہوگا۔

نجی شعبے اور شفافیت کا کردار

رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ اگر اصلاحاتی عمل کا تسلسل برقرار رکھا جائے، نجی شعبے کو مرکزی کردار دیا جائے، اور شفافیت کو فروغ دیا جائے تو پاکستان نہ صرف معاشی خودانحصاری کی طرف بڑھ سکتا ہے بلکہ بیرونی قرضوں پر انحصار بھی کم کر سکتا ہے۔

ایک نئی سمت کی طرف سفر

اے ڈی بی کی رپورٹ محض اعداد و شمار کا تجزیہ نہیں، بلکہ ایک رہنمائی کا خاکہ ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ بحرانوں سے نکلنے کے لیے ہمیں اصلاحات، تدبر اور اجتماعی ذمہ داری کی راہ اختیار کرنی ہوگی۔ موجودہ حکومت کے معاشی فیصلے، اگرچہ بعض اوقات عوام کو مشکل میں ڈالتے ہیں، لیکن طویل مدت میں یہی اقدامات معیشت کو استحکام کی طرف لے جا رہے ہیں۔

پاکستان کی معیشت اب ایک نئے موڑ پر ہے۔ اگر ہم نے درست سمت برقرار رکھی، پالیسیوں میں تسلسل اور عملدرآمد کو یقینی بنایا، تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان خود کفالت اور پائیدار ترقی کی منزل کو پا لے گا۔