محمد راشد تبسم
پاکستان کی معیشت اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہی ہے۔ مہنگائی کی بلند شرح، محدود روزگار کے مواقع اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ گھریلو بجٹ مسلسل دباو کا شکار ہے اور آمدن کے روایتی ذرائع سکڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے میں ایک بنیادی سوال ابھر کر سامنے آتا ہے: کیا صرف ملازمت ہی کمائی کا واحد ذریعہ ہے، یا بدلتے ہوئے حالات میں انسان خود بھی اپنے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ دنیا ایک تیز رفتار تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے نہ صرف کاروبار کے انداز بدلے ہیں بلکہ کمائی کے نئے راستے بھی متعارف کروائے ہیں۔ آج یہ ممکن ہے کہ کوئی فرد گھر بیٹھے اپنی مہارت کے ذریعے باعزت روزگار حاصل کرے۔ فری لانسنگ، آن لائن کاروبار اور ڈیجیٹل خدمات جیسے شعبے اب متبادل نہیں بلکہ مرکزی دھارے کا حصہ بن چکے ہیں۔
اسی تناظر میں ‘‘اپنا کما?’’ جیسے اقدامات اہمیت اختیار کرتے ہیں۔ یہ پروگرام محض ایک تربیتی منصوبہ نہیں بلکہ ایک سوچ کا نام ہے—خود انحصاری کی سوچ۔ اس کا مقصد افراد کو صرف ہنر سکھانا نہیں بلکہ انہیں اس قابل بنانا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اپنے لیے آمدن کے مستقل ذرائع پیدا کر سکیں۔
اس پروگرام کی ایک نمایاں خصوصیت اس کی ہمہ گیری ہے۔ طلبہ، بے روزگار نوجوان، گھریلو خواتین اور ریٹائرڈ افراد—سب اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونا صرف کسی ایک گروہ تک محدود نہیں، بلکہ ہر انسان یہ کر سکتا ہے—اگر وہ سیکھنے کا شوق اور آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔
پاکستان میں بے روزگاری کا مسئلہ مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے۔ ہر سال ہزاروں نوجوان ڈگریاں لے کر عملی میدان میں قدم رکھتے ہیں، مگر انہیں اپنی قابلیت کے مطابق مواقع نہیں ملتے۔ اس صورتحال نے نہ صرف نوجوانوں میں مایوسی کو جنم دیا ہے بلکہ والدین کے لیے بھی تشویش کا باعث بن گئی ہے۔ ایسے حالات میں صرف حکومتی اقدامات کا انتظار کرنا کافی نہیں، بلکہ انفرادی سطح پر بھی پیش قدمی ضروری ہے۔
’’اپنا کما?‘‘ اسی خلا کوپر کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ اس پلیٹ فارم کے تحت جدید مہارتوں کی تربیت کے ساتھ ساتھ عملی رہنمائی بھی فراہم کی جاتی ہے کہ ان مہارتوں کو آمدن میں کیسے بدلا جائے۔ اس سے قبل منعقد ہونے والے آن لائن سیشنز اور ورکشاپس میں بڑی تعداد میں افراد شریک ہو چکے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک میں سیکھنے اور آگے بڑھنے کی خواہش موجود ہے۔ ان سیشنز اور ورکشاپس میں ای کامرس، سوشل میڈیا مارکیٹنگ، گرافک ڈیزائننگ ، یوٹیوب آٹومیشن اور لکھاریوں کے لیے اے آئی کا استعمال جیسے اہم کورسزشامل رہے۔ ان میں مہارت حاصل کرنا نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر بھی مواقع کے دروازے کھولتا ہے۔
خاص طور پر سوشل میڈیا مارکیٹنگ کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کاروباری ادارے اب اپنی مصنوعات اور خدمات کی تشہیر کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا بھرپور استعمال کر رہے ہیں۔ اس بدلتے ہوئے رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے’’اپنا کما?‘‘ نے تین ماہ پر مشتمل ایک جامع سوشل میڈیا مارکیٹنگ پروگرام متعارف کروانے کا اعلان کیا ہے، جس کا آغاز مئی 2026 میں متوقع ہے۔
یہ پروگرام اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ ایک نو آموز فرد بھی بتدریج مہارت حاصل کر سکے۔ ابتدا میں مارکیٹنگ کے بنیادی اصول سکھائے جائیں گے، جن میں برانڈ کی تشکیل، مارکیٹ ریسرچ اور صارفین کے رویوں کو سمجھنا شامل ہے۔ اس کے بعد فیس بک اور انسٹاگرام ایڈز کی عملی تربیت دی جائے گی، جس میںمخصوص صارفین (Target Audience)کا تعین اور موثر مہمات چلانے کے طریقے شامل ہوں گے۔
اس کے ساتھ ساتھ گوگل ایڈز اور سرچ انجن مارکیٹنگ کی تربیت بھی فراہم کی جائے گی، تاکہ شرکاء اپنی خدمات کو عالمی سطح پر متعارف کروا سکیں۔ کاپی رائٹنگ کی مہارت بھی پروگرام کا حصہ ہے، جو ڈیجیٹل مارکیٹنگ میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ موثر تحریر نہ صرف توجہ حاصل کرتی ہے بلکہ صارف کو عمل پر بھی آمادہ کرتی ہے۔
مختصر ویڈیوز کا بڑھتا ہوا رجحان بھی اس پروگرام میں شامل کیا گیا ہے۔ شرکاء کو سکھایا جائے گا کہ کس طرح دلچسپ اور موثر ویڈیو مواد تیار کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ ناظرین تک رسائی حاصل ہو سکے۔ اس کے علاوہ سرچ انجن آپٹیمائزیشن (SEO) کی تربیت دی جائے گی، جو کسی بھی آن لائن کاروبار کی کامیابی کے لیے ناگزیر سمجھی جاتی ہے۔
ڈیٹا اینالیسس بھی پروگرام کا ایک اہم جزو ہے۔ شرکاء کو یہ سکھایا جائے گا کہ وہ اپنی کارکردگی کا تجزیہ کیسے کریں اور بہتر نتائج کے لیے اپنی حکمت عملی میں کس طرح بہتری لائیں۔ مزید برآں، پیشہ ورانہ روابط کے فروغ اور بین الاقوامی کلائنٹس تک رسائی کے لیے لنکڈ اِن کے موثر استعمال کی تربیت بھی دی جائے گی۔
فری لانسنگ کے میدان میں قدم رکھنے والوں کے لیے یہ پروگرام خاص طور پر مفید ہے۔ اس میں پروفائل بنانے، پورٹ فولیو تیار کرنے اور آن لائن پلیٹ فارمز سے کام حاصل کرنے کے عملی طریقے سکھائے جائیں گے۔ شرکاء کو یہ بھی بتایا جائے گا کہ وہ بڑے منصوبے کیسے حاصل کریں اور اپنی آمدن کو کس طرح بڑھا سکتے ہیں۔
پروگرام کا آخری مرحلہ شرکاء کو ایک قدم اور آگے لے جاتا ہے، جہاں انہیں اپنی ڈیجیٹل ایجنسی قائم کرنے اور اسے کامیابی سے چلانے کی تربیت دی جاتی ہے۔ اس طرح وہ صرف فری لانسر نہیں رہتے بلکہ ایک کاروباری شخصیت کے طور پر ابھرتے ہیں۔
اگر اس پروگرام کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا جائے تو یہ نہ صرف انفرادی بلکہ قومی سطح پر بھی مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔ جب زیادہ افراد خود کمانے کے قابل ہوں گے تو بے روزگاری میں کمی آئے گی اور معیشت کو بھی استحکام ملے گا۔ خاص طور پر فری لانسنگ کے ذریعے حاصل ہونے والا زرِ مبادلہ ملک کے لیے ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔
یہ پروگرام خواتین کے لیے بھی ایک موثر موقع فراہم کرتا ہے۔ وہ خواتین جو گھریلو ذمہ داریوں کے باعث باہر کام نہیں کر سکتیں، وہ گھر بیٹھے اپنی مہارتوں کے ذریعے آمدن حاصل کر سکتی ہیں اور مالی خودمختاری کی جانب قدم بڑھا سکتی ہیں۔
دنیا تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے، اور وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو اس تبدیلی کو بروقت اپناتی ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے لیس کرے اور عالمی منڈی میں اپنی جگہ بنائے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ’’اپنا کما?‘‘ جیسے اقدامات امید کی ایک روشن کرن ہیں۔ موجودہ معاشی حالات میں جہاں روایتی روزگار کے مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں، وہاں خود انحصاری ہی وہ راستہ ہے جو ہمیں استحکام اور خوشحالی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم حالات کا انتظار کریں یا خود حالات بدلنے کی کوشش کریں۔