پاک ایران تعلقات ، استحکام کی نئی بلندیوں پر

خواجہ خالد آفتاب     
       اسلام آباد میں منعقد ہونے والے ایران۔امریکہ مذاکرات میں دونوں ممالک کے حکمران 46 سال بعد آمنے سامنے بیٹھے ہیں ، پوری دنیا میں قیام امن کی بحالی کے لیے یہ لمحات تاریخ کا روشن باب بن چکے ہیں یہ مذاکرات نہ صرف خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئے بلکہ پاکستان کے لیے بھی کئی حوالوں سے کامیابیوں کا باعث بنے ہیں۔ ایران ? امریکا مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے جب مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں کشیدگی عروج پر تھی، اور عالمی برادری ایک ایسے پلیٹ فارم کی تلاش میں تھی جہاں سنجیدہ اور نتیجہ خیز مکالمہ ممکن ہو سکے۔ پاکستان نے اس موقع پر نہایت دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود کو ایک ذمہ دار، غیر جانبدار اور امن پسند ریاست کے طور پر منوایا۔
سب سے اہم کامیابی یہ رہی کہ پاکستان نے ایک بار پھر خود کو ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر پیش کیا۔ اسلام آباد کا انتخاب بطور مقام اس بات کی علامت تھا کہ عالمی قوتیں پاکستان کی سفارتی صلاحیتوں پر اعتماد کرتی ہیں۔ یہ اعتماد کسی ایک دن میں حاصل نہیں ہوا بلکہ پاکستان کی مسلسل کوششوں ، متوازن اور مضبوط خارجہ پالیسی اور حصولِ امن کے لیے کردار ادا کرنے کی طویل تاریخ کا نتیجہ ہے۔ ان مذاکرات کے ذریعے پاکستان نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ وہ نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی امن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
ان مذاکرات کا دوسرا بڑا فائدہ پاکستان اور ایران کے تعلقات میں بہتری کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ ماضی میں بعض وجوہات کی بنا پر دونوں ممالک کے تعلقات میں سرد مہری موجود رہی ، تاہم اسلام آباد مذاکرات نے اس فاصلہ کو نہ صرف کم بلکہ کافی حد تک ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیاہے۔ ایرانی قیادت نے پاکستان کی میزبانی اور مثبت کردار کو شاندار انداز میں سراہا ، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا مزید مضبوط ہوئی۔ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت وفد کے دیگر ارکان کے پاکستانی قیادت کے ساتھ معانقے ، تعریفی بیانات اور باڈی لینگویج  اس بات کا بین ثبوت ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان نہ صرف سیاسی تعلقات میں بہتری آئی بلکہ اقتصادی اور تجارتی روابط کے فروغ کے لیے بھی نئے امکانات پیدا ہوئے چکے ہیں۔ پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی تعاون بھی ان مذاکرات کے بعد مزید مستحکم ہونے کی توقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ سرحدی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات اور اسمگلنگ کی روک تھام جیسے معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان ہم آہنگی بڑھنا ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اس کے علاوہ توانائی کے شعبے میں بھی تعاون کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں، خصوصاً گیس پائپ لائن منصوبے جیسے دیرینہ منصوبوں کو دوبارہ فعال کرنے کی امید پیدا ہوئی ہے ہر چند کہ امریکہ اس گیس پائپ لائن منصوبے کا پہلے دن سے ہی مخالف رہا ہے۔
اس کے علاؤہ ان مذاکرات نے پاکستان کی معیشت پر بھی مثبت اثرات ڈالنے کی بنیاد رکھی۔ عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت امیج ابھرنے سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔ جب کوئی ملک امن اور استحکام کے لیے مؤثر کردار ادا کرتا ہے تو اس کی معیشت بھی اس کے ثمرات ضرور سمیٹتی ہے۔ اسلام آباد مذاکرات نے پاکستان کو دنیا کے سامنے ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کیا جو نہ صرف 
اپنے مسائل کو خود حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ دوسروں کے مسائل کے حل میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ ان مذاکرات نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کامیابی کو اجاگر کیا۔ پاکستان نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ وہ کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کے بجائے متوازن تعلقات برقرار رکھے۔ ایران اور امریکہ دونوں کے ساتھ تعلقات کو متوازن رکھنا ایک مشکل کام تھا مگر پاکستان نے اس توازن کو بخوبی برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات کی میزبانی کر کے ایک بڑی سفارتی کامیابی حاصل کی اور نہایت کشیدگی کے عالم میں سعودی عرب اور قطر جیسے دوست ممالک کا بھی مزید اعتماد حاصل کیا۔ ان مذاکرات نے خطے میں امن و استحکام کے لیے امید کی نئی کرن پیدا کی ہے۔ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم ہوتی ہے تو اس کے مثبت اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ افغانستان، خلیجی ممالک اور وسطی ایشیا تک امن کے اثرات پہنچ سکتے ہیں، جس سے تجارتی راہداریوں اور علاقائی تعاون کو فروغ ملے گا۔
پاکستان کے لیے ایک اور اہم کامیابی اس کا سافٹ امیج بہتر ہونا ہے۔ عالمی میڈیا اور تجزیہ کاروں نے پاکستان کے کردار کو بے حد سراہا، جس سے دنیا میں پاکستان کا مثبت تاثر ابھرا۔ یہ تاثر مستقبل میں سیاحت ، سرمایہ کاری اور سفارتی تعلقات کے فروغ میں یقیناً مددگار ثابت ہو گا۔ یہاں یہ کہنا بجا ہوگا کہ اسلام آباد میں ہونے والے ایران۔امریکہ مذاکرات پاکستان کے لیے ایک بڑی سفارتی فتح ثابت ہوئے۔ ان مذاکرات نے نہ صرف پاکستان کے عالمی وقار میں اضافہ کیا بلکہ پاک۔ایران تعلقات کو بھی ایک نئی جہت دی۔ یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر سنجیدگی، حکمت اور مثبت سوچ کے ساتھ اقدامات کیے جائیں تو بڑے سے بڑے مسائل کا حل ممکن ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس کامیابی کو برقرار رکھتے ہوئے مستقبل میں بھی ایسے اقدامات جاری رکھے جو خطے اور دنیا میں امن، استحکام اور ترقی کا باعث بنیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو ایک مضبوط، باوقار اور مزید بااثر ملک بنانے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے#