موٹروے کے اطراف فصلوں کو لگائی گئی آگ سے دھویں کے گہرے بادل چھا گئے، ماحولیاتی صورتحال مزید خراب ہو گئی
لاہور (کرائم رپورٹر )پنجاب کے مختلف شہروں میں رات گئے کسانوں نے حکومتی پابندی کو نظر انداز کرتے ہوئے بڑی تعداد میں گندم کی فصل کی باقیات کو آگ لگا دی، جس سے فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔لاہور، اسلام آباد موٹروے اور لاہور، سیالکوٹ موٹروے کے اطراف فصلوں کو لگائی گئی آگ سے دھویں کے گہرے بادل چھا گئے، جس سے ٹریفک کی روانی اور شہریوں کی صحت دونوں متاثر ہونے کے امکانات بڑھ گئے۔شرقپور، ننکانہ صاحب، جڑانوالہ اور کامونکی سمیت متعدد علاقوں میں رات گئے کسانوں نے باقیات کو آگ لگائی۔ متعلقہ علاقوں میں شدید دھواں چھا گیا جس سے ماحولیاتی صورتحال مزید خراب ہو گئی۔ محکمہ ماحولیات کی ٹیموں نے فائربریگیڈ کے ہمراہ متاثرہ علاقوں میں فیلڈ آپریشن کرتے ہوئے آگ بجھانے کی کارروائیاں کیں۔ ڈی جی ماحولیات کے مطابق گندم کی فصل کی باقیات کو آگ لگانا قانونا ممنوع ہے اور اس پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کسانوں سے اپیل کی ہے کہ فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے سے گریز کریں اور متبادل طریقے اختیار کریں تاکہ ماحول کو محفوظ بنایا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں نہ صرف ماحول بلکہ انسانی صحت پر بھی مہلک اثرات مرتب کرتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب موسم کی تبدیلی کے باعث فضا میں آلودگی کا تناسب ویسے ہی بڑھا ہوا ہے۔