ضلعی عدلیہ کی خودمختاری مؤثر انصاف فراہم کرنے کیلئے ناگزیر ہے چیف جسٹس

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پشاور ہائی کورٹ کے بنوں بینچ کا دورہ ‘چیف جسٹس  ہائیکورٹ ‘مختلف اضلاع کے ججوں اور وکلاء سے ملاقات
چیف جسٹس کو قیدی بہادر خان سے ملوایا گیا جس کا کیس 2019 سے زیر التوا تھا‘اپریل میں فیصلہ ہونے پر چیف جسٹس نے بہادر خان سے اظہار افسوس کیا

راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک)چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے پشاور ہائی کورٹ کے بنوں بینچ کا دورہ کیا اور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ سمیت وکلا سے ملاقات کی‘چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے مشکل حالات میں خدمات انجام دینے والے ججوں سے اظہار یک جہتی کرتے ہوئے کہا ہے  ضلعی عدلیہ کی خودمختاری انصاف کی مؤثر فراہمی کے لیے ناگزیر ہے۔سپریم کورٹ سے جاری اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں پشاور ہائی کورٹ کے بینچ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے  عدالتی اصلاحات، قانونی تربیت اور ادارہ جاتی ہم آہنگی پر زور دیا۔چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ سے ملاقات میں چیف جسٹس نے  یحییٰ آفریدی نے عدلیہ اور وکلا کی استعداد کار بڑھانے سے متعلق تفصیلی گفتگو کی۔چیف جسٹس آف پاکستان نے کرک، لکی مروت، شمالی وزیرستان سمیت دیگر اضلاع کے ججوں اور نمائندوں سے بھی ملاقات کی اور عدالتی استعداد، ادارہ جاتی تعاون اور قانونی تعلیم و تربیت کی اصلاحات پر توجہ دی گئی۔سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس نے عدالتی نظام میں آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے نفاذ کی فوری ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ کم ترقی یافتہ علاقوں کو فنڈز کی ترجیحی فراہمی یقینی بنائی جائے اور ان علاقوں میں خدمات انجام دینے والے ججوں کے لیے تربیتی مواقع اور مراعات فراہم کی جائیں۔چیف جسٹس کو قیدی بہادر خان سے ملوایا گیا جس کا کیس 2019 سے زیر التوا تھا، بہادر خان کیس کا حال ہی میں 23 اپریل 2025 کو فیصلہ ہوا تھا، چیف جسٹس نے اس تاخیر پر بہادر خان سے افسوس کا اظہار کیا۔