چیف جسٹس سے آئی ایم ایف وفد کی ملاقات عدلیہ کی خودمختاری و وقار کے منافی : سینیٹر علی ظفر

 قرضہ لینے کے شوق میں آئی ایم ایف سے معاہدہ کرلیا وہ چیف جسٹس سے عدلیہ کے بارے میں پوچھے،سینیٹ میں خطاب
اسلام آباد(آن لائن) ایوان بالا میں پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے چیف جسٹس سے آئی ایم ایف وفد کی ملاقات کو عدلیہ کی خودمختاری اور وقار کے منافی قرار دیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کی تقرری اور پیکا ایکٹ کے نفاذ سے عوام کا موجودہ حکومت اور عدلیہ سے اعتبار اٹھ گیا ہے۔جمعہ کو سینیٹ اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے کہاکہ ہم سب کیلئے پاکستان کا وقار سب سے اہم ہے،پارلیمنٹ اور جوڈیشری بھی ہمارے لیے بہت اہم ہے، اگر کوئی بھی ملک یا ادارہ ان ان دونوں کی خودمختاری یا وقار پر کسی قسم کی نظر رکھتا ہے تو ہمیں منظور نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے حکومت نے آئی ایم ایف سے قرضہ لیا مگر آج تک ایسا نہیں ہوا کہ کسی بھی ادارے کو یہ اجازت دی جائے کہ وہ چیف جسٹس پاکستان سے پوچھے کہ آپ کا نظام کیسا ہے لیکن صرف قرضہ لینے کے شوق میں آئی ایم ایف سے معاہدہ کرلیا کہ وہ چیف جسٹس سے عدلیہ کے بارے میں پوچھے ۔انہوں نے کہاکہ کیا ہمارا کوئی ادارہ کسی دوسرے ملک کے نظام انصاف کے بارے میں پوچھ سکتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف نے جوڈیشل کمیشن اور الیکشن کمیشن کو بھی ملنا ہے اور یہ ایک مثال بن گئی ہے جس پر اگلی حکومتوں کو بھی عمل کرنا ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ حکومت نے عدلیہ کی ساکھ اور خودمختاری کو نقصان پہنچایا ہے۔