ایران کی پاسداران انقلاب نے خطے میں موجود امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے دی‘ تمام ممالک کے عوام کو امریکی فوجی مراکز سے دور رہنے کی ہدایت‘تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب بمباری، سفیر اور عملہ محفوظ
اسرائیلی فضائیہ کے مغربی ایران میں لانچ سائٹس پر 20 حملے، 70 بم گرا دیئے،بندر عباس میں فضائی حملے، کثیر المنزلہ رہائشی عمارت ملبے کا ڈھیر بن گئیّ‘اسرائیل اور امریکہ کے قم میں فضائی حملوں کے دوران 6 افراد شہید ہوگئے
ایران کے میزائل حملوں میں کویت میں علی السالم ایئر بیس پر طیاروں اور ڈرونز کے ہینگر کو نشانہ بنایا گیا، حزب اللہ اور عراق کی مزاحمتی فورسز کا بھی ایران کے ساتھ مل کر کارروائیوں میں حصہ لینے کا دعوی
واشنگٹن‘تہران(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی توانائی تنصیبات پر حملوں میں 10 دن کی مزید مہلت دے دی ہے، امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ایران کی درخواست پر کیا گیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان انتہائی اہم اور مثبت مذاکرات جاری ہیں۔ایران کی پاسداران انقلاب نے خطے میں موجود امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنانے کی دھمکی دیتے ہوئے تمام ممالک کے عوام کو امریکی فوجی مراکز سے دور رہنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب شدید بمباری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم تمام پاکستانی سفارتی عملہ محفوظ رہا ہے۔اسرائیلی فوج نے ایرانی شہر قم میں تین گھروں پر فضائی حملے کرکے 6 افراد کو شہید کردیا۔عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق ایران پر اسرائیل اور امریکی حملوں کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ قم میں فضائی حملے میں چھ افراد شہید جبکہ تہران میں متعدد عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔اسرائیل نے ایرانی شہر قم میں تین رہائشی گھروں پر فضائی حملے کیے، جس کے نتیجے میں چھ شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے‘ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے آپریشن وعدہ صادق 4 کی 83ویں لہر کے تحت امریکا اور اسرائیل کے اہم فوجی و اسٹریٹجک اہداف پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کرنے کا دعوی کیا ہے، جسے ایران نے جوابی کارروائی قرار دیا ہے۔۔بیان میں کہا گیا ہے کہ حملوں میں اسرائیل کے شہر اشدود میں آئل ڈپو اور اسٹوریج ٹینکس، موڈیعین کے علاقے میں فوجی اہلکاروں کی تنصیب، اور خطے میں امریکی فوجی انفارمیشن ایکسچینج سینٹر کو نشانہ بنایا گیا۔اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات میں واقع امریکی اڈہ الظفرہ اور دیگر فوجی تنصیبات، کویت میں علی السالم ایئر بیس پر طیاروں اور ڈرونز کے ہینگرز، جبکہ شیخ عیسی بیس پر پیٹریاٹ میزائل سسٹم کی مرمت گاہ کو بھی نشانہ بنانے کا دعوی کیا گیا ہے۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اس آپریشن میں جدید ہتھیار استعمال کیے گئے، جن میں طویل اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل، ٹھوس و مائع ایندھن والے سسٹمز، ملٹی وار ہیڈ اور خودکش و لوئٹرنگ ڈرونز شامل ہیں