اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے اسرائیل کی داخلی سیکیورٹی ایجنسی، شن بیت کے سربراہ رونن بار کو برطرف کرنے کا اعلان کیا ہے۔
نیتن یاہو نے یہ فیصلہ اس وقت لیا جب شن بیت نے نیتن یاہو کے قریبی ساتھیوں کے خلاف تحقیقات شروع کی تھیں، جن پر الزام تھا کہ انہوں نے خفیہ معلومات کو لیک کیا۔ ان تحقیقات میں ایک ساتھی پر الزام تھا کہ اس نے ایک غیر ملکی اخبار کو خفیہ دستاویزات فراہم کیں۔رونن بار کی برطرفی کے حوالے سے قرارداد اس ہفتے اسرائیلی کابینہ میں پیش کی جائے گی، تاہم اسرائیل کے اٹارنی جنرل نے نیتن یاہو کو خبردار کیا ہے کہ یہ فیصلہ مفادات کے ٹکراؤ کا سبب بن سکتا ہے اور ان کی جانب سے برطرفی کا اقدام قانونی طور پر جائز نہیں ہوسکتا جب تک اس کے حقائق اور قانون پر مبنی ہونے کا جائزہ نہ لیا جائے۔اس صورتحال میں شن بیت کے سربراہ رونن بار نے وزیرِاعظم نیتن یاہو کے فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ نیتن یاہو کی ذاتی وفاداری کی خواہش اسرائیل کے مفادات کے خلاف ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ غزہ سے تمام یرغمالیوں کی واپسی تک اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔