نیتن یاہو کے دھاندلی کے الزامات مسترد، اسرائیلی انتخابی کمیشن نے فیصلہ سنا دیا

نیتن یاہو کے دھاندلی کے الزامات مسترد، اسرائیلی انتخابی کمیشن نے فیصلہ سنا دیا

اسرائیل کے انتخابی کمیشن نے وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو اور ان کی جماعت لیکوڈ کی جانب سے عرب جماعتوں پر انتخابی دھاندلی اور غیر ملکی مداخلت کے الزامات مسترد کردیے ہیں۔

 کمیشن کے مطابق 9 ہزار 69 پولنگ اسٹیشنز کے جائزے کے دوران انتخابی عمل کی شفافیت متاثر ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا اور اعلان کردہ نتائج ووٹروں کی رائے کی درست عکاسی کرتے ہیں۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے بدھ کے روز 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات کے سرکاری نتائج وصول کرنے کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی جماعتوں سے مشاورت شروع کردی ہے۔ کسی بھی جماعت یا انتخابی اتحاد کو واضح اکثریت نہ ملنے کے باعث حکومت سازی کے لیے سیاسی سمجھوتے اور مختلف جماعتوں کے تعاون کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔انتخابی کمیشن نے مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ انتخابی عمل کی ساکھ پر سوال اٹھانے والا کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آیا۔ نتائج کی منظوری کے لیے ہونے والی ووٹنگ میں 15 ارکان نے حمایت، 2 نے مخالفت جبکہ 14 ارکان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔نیتن یاہو نے انتخابی مہم کے دوران اور انتخابات کے بعد عرب اکثریتی جماعتوں پر دھاندلی اور غیر ملکی مالی معاونت کے الزامات عائد کیے تھے۔

 انہوں نے انتخابی روز نقد رقم کے لفافوں کے ساتھ بعض افراد کی گرفتاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ارکان پارلیمنٹ کو قطر سے بھی رقم فراہم کی گئی۔تاہم انتخابی کمیشن کے جائزے میں ان الزامات کی تصدیق کرنے والا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ اسرائیلی اٹارنی جنرل گالی بہاراوی میارا نے بھی واضح کیا ہے کہ شواہد کے بغیر کسی شخص سے ان الزامات کے تحت پوچھ گچھ نہیں کی جائے گی۔دوسری جانب اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے عرب اقلیت کے خلاف نسل پرستانہ اور توہین آمیز زبان کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں کسی بھی برادری کے خلاف ایسے رویے کی کوئی گنجائش نہیں۔ اسرائیل کی مجموعی آبادی میں عرب اقلیت کا حصہ تقریباً 20 فیصد ہے اور حالیہ انتخابات میں اس کی نمائندہ جماعتوں کی پارلیمانی نشستوں میں اضافہ ہوا ہے۔

حکومت سازی کے لیے عرب جماعتوں کا کردار اہم

120 ارکان پر مشتمل اسرائیلی پارلیمنٹ میں حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 نشستیں حاصل کرنا ضروری ہیں، تاہم حالیہ انتخابی نتائج کے مطابق کسی بھی اتحاد کو یہ اکثریت حاصل نہیں ہوسکی۔نیتن یاہو کے سیاسی بلاک نے 53 نشستیں حاصل کیں، جبکہ ان کے حریف اور سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کے اتحاد کو 48 نشستیں ملیں۔ دوسری جانب عرب جماعتوں کی مجموعی 19 نشستیں حکومت سازی کے لیے فیصلہ کن اہمیت اختیار کرگئی ہیں۔عرب اکثریتی جماعت یونائیٹڈ عرب لسٹ نے اعلان کیا ہے کہ وہ نئی حکومت کی تشکیل کے لیے آئزن کوٹ کی حمایت کرنے کی سفارش کرے گی۔ تاہم اپوزیشن کے بعض رہنماؤں کو عرب جماعتوں کے ارکان کی حمایت حاصل کرنے پر تحفظات بھی ہیں۔

صدر ہرزوگ کی سیاسی جماعتوں سے مشاورت

اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ ابتدائی طور پر دو روز تک سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے مشاورت کریں گے۔ مشاورت کے بعد جس امیدوار کو حکومت بنانے کی ذمہ داری سونپی جائے گی، اسے کابینہ تشکیل دینے کے لیے 28 دن دیے جائیں گے، جبکہ ضرورت پڑنے پر اس مدت میں مزید 14 دن کی توسیع بھی کی جاسکتی ہے۔اگر نامزد امیدوار حکومت بنانے میں ناکام رہتا ہے تو کسی دوسرے امیدوار کو موقع دیا جاسکتا ہے۔ دوسری صورت میں سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے نہ ہونے پر اسرائیل میں دوبارہ انتخابات کا راستہ کھل سکتا ہے۔