اسرائیلی آرمی کے سابق سربراہ نے نیتن یاہو کا جھوٹ بے نقاب کردیا

اسرائیلی آرمی کے سابق سربراہ نے نیتن یاہو کا جھوٹ بے نقاب کردیا

اسرائیل میں اپوزیشن رہنماؤں نے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مبالغہ آمیز اور گمراہ کن دعوے کر کے داخلی اور خارجی پالیسیوں کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی اپوزیشن جماعت “یش عتید” کے رہنما اور سابق آرمی چیف گاڈی آئزن کوٹ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیاروں کی موجودگی کے دعوے حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔ ان کے مطابق نیتن یاہو کی جانب سے ایسے بیانات کا مقصد عوام میں خوف پیدا کرنا اور اپنی سخت پالیسیوں کو درست ثابت کرنا ہے۔ آئزن کوٹ نے واضح طور پر کہا کہ ایران اس وقت جوہری بم کا مالک نہیں ہے، اور اس حوالے سے دعوے مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں۔اسی طرح سابق اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے بھی نیتن یاہو کے مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیاروں کی موجودگی کا دعویٰ درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ بیانات میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے جیسے ایران پہلے ہی نیوکلیئر طاقت بن چکا ہے، جو کہ درست نہیں۔

اپوزیشن رہنماؤں کے مطابق حکومت کی اس نوعیت کی بیانیہ سیاست نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتی ہے بلکہ اسرائیل کی داخلی سیاسی صورتحال پر بھی منفی اثر ڈال رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اصل ضرورت حقائق پر مبنی پالیسی سازی کی ہے نہ کہ خوف پر مبنی سیاسی بیانیے کی۔دوسری جانب حکومتی حلقوں کی جانب سے اس تنقید پر فوری طور پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم اسرائیلی سیاست میں ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ ایک عرصے سے انتہائی حساس اور مرکزی موضوع بنا ہوا ہے، جس پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت اختلاف پایا جاتا ہے۔