امریکی حکومت کی ایک قانونی دستاویز میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک کی مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی “گروک” کو امریکی فوجی کارروائیوں میں استعمال کیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے 15 جون کو جمع کرائی گئی قانونی بریفنگ میں کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ ایک ماحولیاتی مقدمے سے جڑا ہے، جس میں ڈیٹا سینٹرز کو توانائی فراہم کرنے والے گیس ٹربائنز پر اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔دستاویز میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اگر مذکورہ ڈیٹا سینٹر کی بجلی بند کی گئی تو اس سے نہ صرف امریکی توانائی و اقتصادی سلامتی متاثر ہوگی بلکہ وہ مصنوعی ذہانت کے نظام بھی متاثر ہوں گے جو دفاعی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔قانونی فائلنگ میں پینٹاگون کے مصنوعی ذہانت کے سربراہ کیمرون اسٹینلے کے حلفیہ بیان کا حوالہ بھی شامل ہے، جس کے مطابق “گروک” اس وقت امریکی فوج کے پروجیکٹ پروجیکٹ ماون میں استعمال ہو رہا ہے۔ یہ منصوبہ فوجی اہداف کی نشاندہی اور کارروائیوں میں مصنوعی ذہانت کی مدد فراہم کرتا ہے۔حلفیہ بیان کے مطابق اس نظام نے ماضی میں مختلف آپریشنز کے دوران ہزاروں اہداف کی نشاندہی اور کارروائیوں میں کردار ادا کیا، جس سے فوجی آپریشنز کی رفتار اور مؤثریت میں اضافہ ہوا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس سے قبل اس منصوبے میں ایک اور AI ماڈل “Claude” استعمال ہوتا رہا ہے، تاہم اب “گروک” کو بھی اس نظام کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے فوجی استعمال، خودکار ہدف بندی اور جنگی فیصلوں میں AI کے کردار پر شدید بحث جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق مستقبل میں جنگی حکمت عملی بڑی حد تک مصنوعی ذہانت پر منحصر ہو سکتی ہے، جس سے نئے قانونی اور اخلاقی سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔