پاکستان امریکہ ایران معاملے میں بہت پیچیدہ ایشو کو ڈیل کررہا ہے‘ پاکستان ہیڈ لائنز ڈپلومیسی پر یقین نہیں رکھتا، دوست ممالک کی درخواست پر اپنا کردار ادا کیا ‘ پوری قوم فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کاز کیساتھ کھڑی ہے
آزاد کشمیر کی صورتحال کا کسی کو فائدہ نہیں اٹھانے دینگے ،،قانون ہاتھ میں لینے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا ‘ہمیں پتہ ہے آزاد کشمیر کے حالات کون کس منصوبہ بندی کے تحت خراب کررہا ہے
بھارت سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد معطل یا ختم نہیں کر سکتا‘ پاکستان ضرورت پڑنے پر موجودہ صورتحال کو تبدیل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے‘ 9 مئی کرنے اور کروانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے:صحافیوں کو بریفنگ
راولپنڈی( آن لائن ‘مانیٹرنگ ڈیسک) اعلیٰ سیکیورٹی حکام نے ایران، امریکہ معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے پاکستان ہیڈ لائنز ڈپلومیسی پر یقین نہیں رکھتا، دوست ممالک کی درخواست پر اپنا کردار ادا کیا اور پوری قوم فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کاز ساتھ کھڑی ہے ،کستان کا اس میں کردار ثالث کا ہے، فیلڈ مارشل کا اس معاملے میں ایک ہی انٹرسٹ ہے، وہ ہے امن اور استحکام۔سیکیورٹی ذرائع نے بتایا اگر یہ جنگ نہ رکتی تو اس کے سنگین نتائج ہوتے، ہم ہیڈلائن ڈپلومیسی میں دلچسپی نہیں رکھتے، پاکستان نے ثالثی کے تمام تقاضے پورے کیے ہیں آزاد کشمیر کی صورتحال کا کسی کو بھی فائدہ نہیں اٹھانے دینگے ، بھارتی فوج طاقت سے کشمیر نہیں لے سکتی، قانون ہاتھ میں لینے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا ، ہمیں پتہ ہے کہ آزاد کشمیر کے حالات کون کس منصوبہ بندی کے تحت خراب کررہا ہے ، افغان سرزمین دہشت گردی کے لئے مسلسل استعمال ہورہی ہے ۔ اعلیٰ سیکیورٹی حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور مسلم بھائی چارے کے فروغ کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور عالمی سطح پر بالخصوص مسلم امہ کو سنگین نقصان سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان نے دوست ممالک کی درخواست پر مثبت کردار ادا کیا جبکہ پاکستان کی سفارتی کاوشوں اور درخواستوں پر دوست ممالک نے بھی جنگ اور کشیدگی سے گریز کیا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ جنگ کے بغیر کامیابی حاصل کرنا ہی درحقیقت سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے۔۔ پاکستان نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کامیاب اور منظم کارروائیاں کیں۔ افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر کے خلاف کی جانے والی کارروائیاں افغان عوام کے خلاف نہیں بلکہ صرف دہشت گرد عناصر کے خلاف تھیں۔ ذرائع نے واضح کیا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ تمام مسائل کو مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے۔سیکیورٹی ذرائع نے آزاد جموں و کشمیر میں آٹا، بجلی اور حقوق کے نام پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ابتدا میں عوامی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم ان احتجاجی سرگرمیوں کے پس پردہ ایک خطرناک اور مذموم ایجنڈا کارفرما ہے۔ذرائع کے مطابق بعض عناصر نے عوامی مسائل کو بنیاد بنا کر انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی۔ سڑکوں پر رکاوٹیں ریاست نے نہیں بلکہ انتشاری گروہوں نے کھڑی کیں اور بعض عناصر نے ریاست کے خلاف ہتھیار بھی اٹھائے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ نام نہاد ایکشن کمیٹی وقت کے ساتھ عوام کے سامنے بے نقاب ہو رہی ہے اور ریاست کو ان عناصر کی منصوبہ بندی اور ان کے پس پردہ موجود قوتوں کے بارے میں مکمل آگاہی ہے۔ذرائع نے کہا کہ آزاد کشمیر ایک سیاسی طور پر متحرک خطہ ہے اور یہاں جمہوری نظام پاکستان کے دیگر حصوں سے بھی زیادہ مضبوط ہے۔ جمہوری نظام ہمیشہ مذاکرات اور مکالمے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور ریاست نے ہر مرحلے پر تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کیا ہے۔سیکیورٹی ذرائع نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ مہاجرین کی نشستوں سے متعلق واضح فیصلہ دے چکی ہے جبکہ آئندہ انتخابات میں عوام اپنی رائے کا آزادانہ اظہار کریں گے۔ ریاست آئین اور قانون کے مطابق منفی عناصر سے نمٹے گی اور مذموم گروہوں کو بے نقاب کیا جائے گا۔سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ مسئلہ کشمیر برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام آج بھی پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بھارت کی دس لاکھ سے زائد فوج بھی کشمیری عوام کے نظریات اور جدوجہد کو دبانے میں ناکام رہی ہے اور بھارتی فوج طاقت کے ذریعے کشمیر پر اپنا تسلط مستحکم نہیں کر سکتی۔ذرائع نے الزام عائد کیا کہ غیر ملکی عناصر آزاد کشمیر کی صورتحال کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر بھی کشمیر کے حوالے سے منفی اور گمراہ کن بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق رواں مالی سال پاکستان کا دفاعی بجٹ تقریباً تین ہزار ارب روپے رکھا گیا ہے جس میں گزشتہ برس کے مقابلے میں 450 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ اضافہ افراط زر کی شرح اور بڑھتے ہوئے دفاعی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ دفاعی بجٹ کا 80 سے 85 فیصد حصہ لازمی اخراجات بشمول پٹرولیم مصنوعات، راشن، تعمیر و مرمت اور دیگر آپریشنل ضروریات پر خرچ ہو جاتا ہے، جس کے بعد جدید اسلحے کی خریداری اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے محدود وسائل دستیاب رہتے ہیں۔سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ بھارت کا دفاعی بجٹ تقریباً 93 ارب ڈالر ہے جبکہ پاکستان کی مسلح افواج کو روایتی اور غیر روایتی دونوں قسم کے خطرات کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق قومی سلامتی کا ایک اہم ستون مضبوط معیشت بھی ہے۔سیکیورٹی ذرائع نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ بھارت عالمی قوانین کے تحت یکطرفہ طور پر معاہدے پر عملدرآمد معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔ تمام بین الاقوامی قوانین اور قانونی نکات پاکستان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔ذرائع نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور ضرورت پڑنے پر موجودہ صورتحال کو تبدیل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مسلح افواج ملکی مفادات اور دفاع کے تحفظ کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے ریاست کی پالیسی بالکل واضح ہے۔ ۔سیکیورٹی ذرائع نے 9 مئی کے واقعات کو پوری قوم کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ کسی فرد واحد یا جماعت تک محدود نہیں۔ ذرائع کے مطابق قانون سے فرار اختیار کرنے والے افراد مشکلات کا شکار ہیں اور ایسے عناصر کے باعث سیاسی جماعتوں کے معاملات بھی متاثر ہو رہے ہیں۔سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے تقریباً 40 ہزار جوان پاکستان کی مسلح افواج میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں، جو پاکستان اور کشمیر کے مضبوط رشتے کا عملی اظہار ہےسیکیورٹی ذرائع نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ کسی بھی ملاقات کی تردید کردی، بتایا گیا 9 مئی کرنے اور کروانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔