نریندر مودی سے میری بڑی اچھی دوستی ہے ‘ان کا احترام کرتا ہوں‘وہ ایک قاتل اور بہت سخت انسان ہیں‘پاک ‘بھارت جنگ رکوا کر لاکھوں زندگیاں بچالیں:ٹرمپ

شہبازشریف بہت اچھے آدمی فیلڈ مارشل زبردست فائٹر ہیں امریکی صدر
میں نے مودی کو فون کیا اور کہا  ہم آپ سے تجارتی معاہدہ نہیں کر سکتے کیونکہ آپ جنگ شروع کر رہے ہیں‘ پھر میں نے پاکستان کو کال کی اور یہی بات کہی‘ دونوں نے کہا ہمیں لڑنے دیں‘ یہ بہت سخت لوگ ہیں
صرف دو دن بعد دونوں ملکوں نے مجھے فون کیا اور کہا  ہم سمجھ گئے ہیں اور جنگ رک گئی‘کیا یہ حیران کن نہیں؟آپ سوچتے ہیں  بائیڈن ایسا کر سکتا تھا؟ میرا خیال ہے نہیں:جنوبی کوریا میں گفتگو
سیول (آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے  پاکستان کے وزیراعظم ایک بہت اچھے آدمی ہیں اور پاکستان کے فیلد مارشل سید عاصم منیر بہت زبردست فائٹر اور بہت اچھے آدمی ہیں‘    امریکہ کی  مداخلت کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ جنگ رک گئی تھی‘مجھے بہت اچھا لگا کیونکہ ہم نے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بچا لیں۔جنوبی کوریا میں اپیک سی ای او سمٹ کے ظہرانے میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا  پاکستان اور بھارت کی جنگ میں 7 طیارے مار گرائے گئے، پاکستان اور بھارت آپس میں لڑائی پر اتر آئے تھے، یہ بہت بڑی بات تھی کیونکہ یہ دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں‘ونوں ممالک کے درمیان لڑائی کے دوران انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور پاکستانی قیادت سے رابطہ کیا اور انہیں کہا کہ اگر وہ جنگ کریں گے تو امریکا ان کے ساتھ تجارتی معاہدے نہیں کرے گا۔ٹرمپ نے ایک تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے کہا، "میں بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرنے جا رہا تھا۔ مودی سے میری بڑی اچھی دوستی ہے، میں ان کا احترام کرتا ہوں، وہ ایک قاتل ہے اور بہت سخت ہے، اسی طرح پاکستان کا وزیراعظم بھی بہترین انسان ہے۔ ان کے پاس ایک فیلڈ مارشل ہے جو بہت زبردست فائٹر ہے۔"انہوں نے مزید کہا، "مجھے خبر ملی کہ سات طیارے مار گرائے گئے ہیں، دونوں ملک ایٹمی طاقتیں ہیں اور ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں۔ میں نے مودی کو فون کیا اور کہا کہ ہم آپ سے تجارتی معاہدہ نہیں کر سکتے کیونکہ آپ جنگ شروع کر رہے ہیں۔ پھر میں نے پاکستان کو کال کی اور یہی بات کہی۔ دونوں نے کہا ہمیں لڑنے دیں۔ یہ بہت سخت لوگ ہیں۔"ٹرمپ نے کہا، "میں نے مودی سے کہا، آپ بہت اچھے دکھتے ہیں، مگر آپ سخت آدمی ہیں۔ وہ بولے، نہیں، ہم لڑیں گے۔ لیکن صرف دو دن بعد دونوں ملکوں نے مجھے فون کیا اور کہا کہ ہم سمجھ گئے ہیں اور جنگ رک گئی۔ کیا یہ حیران کن نہیں؟"انہوں نے طنزیہ انداز میں مزید کہا، "آپ سوچتے ہیں کہ بائیڈن ایسا کر سکتا تھا؟ میرا نہیں خیال!"۔