مشرق وسطیٰ کشیدگی: صدر ڈونلڈ ٹرمپ جی-7 اجلاس ادھورا چھوڑ کر واپس روانہ

مشرق وسطیٰ کشیدگی: صدر ڈونلڈ ٹرمپ جی-7 اجلاس ادھورا چھوڑ کر واپس روانہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر جی-7 اجلاس کو مکمل ہونے سے قبل ہی چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے، اور واشنگٹن واپس روانہ ہو چکے ہیں۔

  وطن واپسی اور سیکیورٹی ہدایات
غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، صدر ٹرمپ نے اجلاس کے آخری روز شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنی قومی سلامتی کونسل (نیشنل سیکیورٹی کونسل) کو ہدایت دی ہے کہ وہ سچویشن روم میں الرٹ رہیں اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر کڑی نظر رکھیں۔وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری، کیرولین لیویٹ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ نے عالمی رہنماؤں کے ساتھ عشائیے کے بعد اجلاس سے رخصت لے لی ہے۔

  سوشل میڈیا پر تنقید
صدر ٹرمپ نے ایک روز قبل تہران کے شہریوں کو فوری انخلا کا مشورہ دیا تھا، جو ان کی ذاتی سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے جاری کیا گیا تھا۔ اس بیان کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جسے مبالغہ آمیز اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا جا رہا ہے۔

  امریکی دفاعی تیاری
پینٹاگون کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا اس وقت مکمل چوکس اور تیار ہے۔ مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی اثاثوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے دفاعی اقدامات میں تیزی لائی جا رہی ہے۔

  اعلامیے پر دستخط سے انکار
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، صدر ٹرمپ نے جی-7 اجلاس کے مشترکہ اعلامیے پر دستخط سے انکار کر دیا ہے۔اعلامیے میں شامل نکات درج ذیل ہیں:

ایران-اسرائیل تنازع کے خاتمے کی اپیل
جوہری ہتھیاروں کی روک تھام
عالمی توانائی منڈی کے استحکام کا لائحہ عمل
صدر ٹرمپ کے اس اقدام کو یورپی اتحادیوں اور کینیڈا کی قیادت نے مایوس کن قرار دیا ہے۔

  اجلاس کی آئندہ صورتحال
یورپی اور کینیڈین سفارتی ذرائع کے مطابق جی-7 اجلاس کل (18 جون) اختتام پذیر ہوگا۔ تاہم، مشترکہ اعلامیہ اب بھی مذاکرات کے مراحل میں ہے اور امریکی صدر کی عدم موجودگی میں اس پر متفقہ اتفاق رائے مشکل دکھائی دے رہا ہے۔

  پس منظر
صدر ٹرمپ کی اچانک واپسی اور تنقیدی بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان فوجی تصادم کے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں، اور عالمی برادری سفارتی حل کی تلاش میں ہے۔