تھانہ روات کی حدود میں واقع ڈھوک غلام علی میں ایک افسوسناک غیرت کے نام پر قتل کا واقعہ پیش آیا ہے، جہاں بھائی نے اپنے بھائی (جیٹھ) کے ساتھ مل کر اپنی ہمشیرہ زہرش فیصل کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔
پولیس کی ابتدائی رپورٹ
اے ایس آئی اسد علی کے مطابق وہ اپنے ساتھی اہلکاروں کے ہمراہ انسدادِ جرائم گشت پر تھا کہ اچانک ڈھوک فرمان علی کی جانب سے فائرنگ اور شور کی آواز سنائی دی۔جب پولیس موقع پر پہنچی تو فیصل محمود کے گھر سے دو مسلح افراد نکلتے نظر آئے۔پولیس کو دیکھتے ہی دونوں ملزمان گلیوں میں فرار ہو گئے۔
مقتولہ کی شناخت اور واقعے کی تفصیل
پولیس نے مکان کے اندر جا کر دیکھا تو زہرش فیصل کی لاش صوفے پر پڑی تھی۔ وہ شدید زخمی تھیں اور موقع پر ہی دم توڑ چکی تھیں۔
ملزمان کی شناخت:
نفیس اختر (مقتولہ کا بھائی)
نوید کیانی (مقتولہ کا جیٹھ)
ایف آئی آر کا متن
مقدمہ اے ایس آئی اسد علی کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ایف آئی آر کے مطابق دونوں ملزمان نے باہم مشورے سے مقتولہ کو غیرت کے نام پر قتل کیا۔قتل سے قبل تشدد بھی کیا گیا۔
مقتولہ کا خاندانی پس منظر
مقتولہ زہرش فیصل کی شادی فیصل محمود سے ہوئی تھی، جو ایک نجی ہوٹل میں تندور پر ملازم ہے۔
ان کے دو بچے ہیں:
ایک تین سالہ بیٹی
ایک ڈیڑھ سالہ بیٹا
ملزمان کو مقتولہ کا مختلف افراد سے ملنا پسند نہیں تھا، جسے "غیرت" کا مسئلہ بنا کر جان لیوا انجام دیا گیا۔
پولیس کا ردعمل
مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
واقعہ کی مزید تفتیش جاری ہے۔
پس منظر اور سماجی پہلو
یہ واقعہ ایک بار پھر اس امر کی یاد دہانی کراتا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل جیسے جرائم اب بھی پاکستانی معاشرے میں زندگیوں کو نگل رہے ہیں۔انسانی حقوق کے علمبرداروں نے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ اس قسم کے قتل کو ناقابلِ معافی جرم قرار دے کر سخت سزا دی جائے تاکہ معاشرے میں خوف اور قانون کی بالا دستی قائم ہو سکے۔