راولپنڈی میں غیرت کے نام پر قتل کی لرزہ خیز واردات، خاوند نے اہلیہ کو قتل کر کے خاموشی سے دفنا دیا

راولپنڈی میں غیرت کے نام پر قتل کی لرزہ خیز واردات، خاوند نے اہلیہ کو قتل کر کے خاموشی سے دفنا دیا

تھانہ پیرودھائی کی حدود میں غیرت کے نام پر ایک ہولناک قتل کا انکشاف ہوا ہے، جہاں خاوند نے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ مل کر اپنی نئی نویلی بیوی کو قتل کر کے خاموشی سے دفنا دیا۔

پولیس نے تحقیقات کے دوران گورکن سمیت ملوث ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

 خود ہی جھوٹا اغوا اور نکاح کا مقدمہ درج کرایا
پولیس ذرائع کے مطابق ملزمان نے جرم چھپانے کے لیے انتہائی شاطرانہ چال چلی۔ مقتولہ کے خاوند ضیاء الرحمان نے خود ہی اپنی بیوی کے اغوا اور مبینہ طور پر دوسرے نکاح کا جھوٹا مقدمہ درج کرایا۔ ایف آئی آر کے مطابق ضیاء الرحمان نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ پیر ودھائی کا رہائشی ہے اور باڑہ مارکیٹ میں کپڑے کی دکان پر سیلز مین کے طور پر کام کرتا ہے۔ضیاء الرحمان نے بتایا کہ اس کی شادی جنوری میں سدرہ گل سے ہوئی تھی، لیکن 11 جولائی کو معمولی جھگڑے کے بعد وہ گھر سے زیورات اور نقدی لے کر فرار ہوگئی۔ بعد ازاں اسے اطلاع ملی کہ اس کی بیوی نے عثمان نامی شخص سے شادی کر لی ہے۔

 پولیس تحقیقات میں چونکا دینے والے انکشافات
پولیس نے ضیاء الرحمان کی مدعیت میں اغوا اور دوسرے نکاح کا مقدمہ درج کیا اور تحقیقات شروع کیں تو حیران کن انکشافات سامنے آئے۔ ذرائع کے مطابق مقتولہ کی پراسرار گمشدگی پر قریب واقع قبرستان کے گورکن کو شاملِ تفتیش کیا گیا تو اس نے ایک خفیہ تدفین کا انکشاف کر دیا۔تفتیش میں پتہ چلا کہ مقتولہ کو قتل کرنے کے بعد چپ چاپ دفنا دیا گیا تھا اور قبر پر کوئی نشانی بھی باقی نہ چھوڑی گئی تاکہ شک نہ گزرے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے گورکن سمیت دیگر ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

 لاش کی برآمدگی کے لیے عدالت سے رجوع، قتل کی دفعات شامل
پولیس نے عدالت سے اجازت حاصل کرنے کے بعد لاش کی بازیابی کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔ ایف آئی آر میں اب قتل، غیرت کے نام پر قتل، شواہد مٹانے اور دیگر دفعات کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق مرکزی ملزم ضیاء الرحمان تاحال فرار ہے، جس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس ترجمان سے موقف لینے کی متعدد کوششیں کی گئیں لیکن وہ دستیاب نہ ہو سکے۔

 پس منظر اور خدشات
پولیس کو شبہ ہے کہ یہ واردات باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت انجام دی گئی، تاکہ مقتولہ کے مبینہ کردار پر شک کی بنیاد پر اُسے "غیرت" کے نام پر قتل کیا جا سکے اور قتل کو اغوا اور خودساختہ نکاح کا رنگ دیا جائے۔