بھارتی ریاست آندھرا پردیش میں نوجوان کے قتل کے معاملے میں پولیس نے مقتول کی بیوی، اس کے مبینہ عاشق اور دو دیگر افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے جدید ٹیکنالوجی، موبائل فون ریکارڈ، لوکیشن ڈیٹا اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے چند گھنٹوں میں قتل کا معمہ حل کر لیا۔پولیس کے مطابق 23 سالہ مقتول رمیش، جو تامل ناڈو کا رہائشی تھا، اپنی 19 سالہ بیوی حسینی اور کم سن بیٹی کے ہمراہ مندر جا رہا تھا۔ دورانِ سفر مبینہ طور پر حسینی اپنے بچپن کے دوست یوگندھر سے مسلسل رابطے میں رہی اور اسے اپنی لوکیشن بھیجتی رہی۔تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ پہاڑی سڑک کے ایک موڑ پر حسینی نے مبینہ طور پر اپنا بیگ گرا دیا، جس پر رمیش نے موٹر سائیکل روک دی۔ پولیس کے مطابق اسی دوران یوگندھر اور اس کے دو ساتھی وہاں پہنچے اور رمیش کو زبردستی قریبی جنگل کی جانب لے گئے، جہاں مبینہ طور پر تیز دھار ہتھیاروں سے حملہ کر کے اسے قتل کر دیا گیا۔پولیس کے مطابق واقعے کا انکشاف اس وقت ہوا جب حسینی کی والدہ نے بیٹی اور نواسی کے گھر واپس نہ پہنچنے پر پولیس سے رابطہ کیا۔ بعد ازاں تحقیقات کے دوران مختلف شواہد سامنے آئے جن سے قتل کی منصوبہ بندی کا شبہ ظاہر ہوا۔
پولیس نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں رمیش کو اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ مندر جاتے ہوئے دیکھا گیا، جبکہ بعد کی ویڈیوز میں حسینی کو مبینہ طور پر دو افراد کے ساتھ مقتول کی موٹر سائیکل پر جاتے ہوئے دیکھا گیا۔تفتیشی ٹیم نے موبائل فون ریکارڈ، لوکیشن ڈیٹا اور دیگر تکنیکی شواہد کی بنیاد پر مقتول کی لاش برآمد کی اور تمام مبینہ ملزمان کو حراست میں لے لیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ قتل کی مکمل وجوہات، منصوبہ بندی اور دیگر پہلوؤں کا تعین کیا جا سکے۔