امریکا اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔
امریکی حملوں کے مسلسل چھٹے روز ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ امریکا نے بھی ایران کے مختلف فوجی اہداف پر نئی فضائی کارروائیوں کی تصدیق کی ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق امریکی جنگی طیاروں، بحری جہازوں اور ڈرونز نے ایران کے متعدد فوجی مقامات پر جدید ہتھیاروں سے حملے کیے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں قشم جزیرہ، بندر عباس اور ساحلی علاقوں میں واقع فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، فوجی لاجسٹک تنصیبات اور بحری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا تاکہ آبنائے ہرمز میں ایران کی عسکری صلاحیت کو محدود کیا جا سکے۔دوسری جانب ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین، کویت اور دیگر خلیجی علاقوں میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ رپورٹس کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بھی دھماکوں جیسی آوازیں سنی گئیں، جبکہ قطری وزارت داخلہ نے ایک بچے کے زخمی ہونے کی تصدیق کی، جس کی وجہ مبینہ طور پر دھماکے کے ٹکڑے تھے۔ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی فضائی حملوں میں جنوبی ایران کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں بندر خمیر کے پل، ایک ریلوے اسٹیشن اور ایران شہر ایئرپورٹ شامل ہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق بندر خمیر میں پلوں پر حملوں کے نتیجے میں کم از کم سات افراد جاں بحق ہوئے۔
ادھر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت ایک بار پھر متاثر ہوئی ہے۔ ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ میں اپنی پابندیاں دوبارہ نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ امریکا نے بھی ایرانی بندرگاہوں کی جانب جانے والے بعض بحری راستوں پر پابندیاں بحال کر دی ہیں، جس سے عالمی توانائی کی ترسیل اور تیل کی منڈیوں میں بے یقینی بڑھ گئی ہے۔رپورٹس کے مطابق ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی حملے جاری رہے تو باب المندب کے علاقے میں بھی کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز میں امریکی مفادات یا بین الاقوامی جہاز رانی پر حملوں کو برداشت نہیں کریں گے، تاہم سفارتی راستہ اب بھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا کا کہنا ہے کہ امریکا فضائی حملوں کے ذریعے آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول ختم نہیں کر سکتا، کیونکہ ایران اس اہم آبی گزرگاہ کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں نے مشرقِ وسطیٰ میں نئی غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی سپلائی پر بھی اس کے اثرات نمایاں ہونے لگے ہیں۔