سنگاپور کی شپ ٹریکنگ کمپنی کلیپر کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد میں مزید کمی واقع ہوئی ہے۔
جمعرات کو صرف 7 بحری جہاز اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرے، جو کہ ایک روز قبل کے مقابلے میں نصف سے بھی کم ہے۔ اس دن 4 جہاز آبنائے ہرمز میں داخل ہوئے اور 3 جہاز باہر نکلے۔رپورٹ کے مطابق، ان میں کوئی بھی بڑا خام تیل بردار ٹینکر یا ایل این جی ٹینکر شامل نہیں تھا۔ آبنائے ہرمز سے قبل جنگ کے دوران دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی تھی، جس سے یہ خطہ عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں، امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کے تعطل کے باعث خطے میں بحری جہازوں کی سلامتی کو لے کر خدشات بڑھ رہے ہیں۔ تجارتی جہازوں کی کم ہوتی تعداد اور سلامتی کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویشیں، عالمی توانائی مارکیٹ اور بحری تجارتی راہداری کے لیے ایک چیلنج کا سبب بن رہی ہیں۔مزید تحقیق اور مذاکرات کے بغیر، اس اہم آبی گزرگاہ کی صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے۔