امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے میں تجارتی جہازوں کو درپیش سکیورٹی خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد پانچ ہفتوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جس سے عالمی توانائی کی منڈیوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے شپ ٹریکنگ کمپنی کپلر کے اعداد و شمار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اتوار کے روز صرف چھ بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو گزشتہ پانچ ہفتوں کے دوران سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز سے باہر جانے والے دو بھرے ہوئے آئل ٹینکرز تقریباً 20 لاکھ بیرل ایرانی خام تیل اور پانچ لاکھ بیرل کویتی تیل کی مصنوعات لے کر روانہ ہوئے۔اعداد و شمار کے مطابق تین خالی آئل ٹینکرز خلیج میں داخل ہوئے تاکہ وہاں سے خام تیل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات لوڈ کی جا سکیں۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرتے وقت متعدد بحری جہازوں نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنے ٹرانسپونڈرز (شناختی سگنلز) عارضی طور پر بند رکھے، تاکہ ان کی نقل و حرکت کی نگرانی محدود رہے۔
ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی اور بحری سلامتی سے متعلق خدشات کے باعث عالمی شپنگ کمپنیاں زیادہ محتاط ہو گئی ہیں، جس کے نتیجے میں اس اہم بحری گزرگاہ سے تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور توانائی کی بڑی مقدار مختلف ممالک تک پہنچائی جاتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی تیل کی سپلائی، قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔