تہران: امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی فضائی حملوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اہداف کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔
ایرانی فوج کے مطابق بحرین کے سخیر فوجی اڈے پر موجود امریکی ہیلی کاپٹروں اور جاسوس طیاروں کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی امریکی فضائی حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔ادھر روسی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ کویت میں بھی ایرانی ڈرون حملوں کے دوران امریکی میزائل دفاعی نظام کی ایک بیٹری کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد علاقے میں دھوئیں کے بادل دیکھے گئے۔ دوسری جانب کویتی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملک کا فضائی دفاعی نظام دشمن کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کو ناکام بنانے کے لیے مکمل طور پر متحرک ہے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
کویت کی وزارت دفاع کے مطابق حملوں کے دوران ملک کی بعض اہم تنصیبات کو نقصان پہنچا، تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی گئی۔ حکام نے کہا ہے کہ متعلقہ ادارے نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں اور سکیورٹی کی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے ایرانی دعوؤں پر فوری طور پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی برادری کی تشویش میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی نہ آئی تو اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی توانائی کی منڈی پر مرتب ہو سکتے ہیں